خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 577
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۷۷ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۰ء ہے۔جھوٹ بول کے ملے لے لو۔چوری کر کے ملے لے لو۔ڈاکہ مار کے ملے لے لو۔دھوکہ دے کے ملے، فریب سے ملے لے لو۔تول کم کر کے ملے لے لو۔ملاوٹ چیزوں میں کر کے پیسے ملیں لے لو۔دوسروں کی جیب کتر کے ملیں لے لو۔پانی ملا دو اور وزن زیادہ کر دو کمالو د نیا۔روئی کے بنڈل بناؤ اس کے اندر اینٹیں ڈال دو کر لو۔یہ دنیا ہے۔رَضُوا بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا دنیا پر اکتفا کر لیتے ہیں۔محبت الہی سے دل ان کا خالی ہوتا ہے اُخروی زندگی کی نعمتوں کا کبھی خیال آہی نہیں سکتا۔ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا (الكهف : ۱۰۵) ساری کوششیں اس ورلی زندگی کے اندر ہی گھومتی اور ضائع ہو جاتی ہیں۔زمین کی طرف جھکتے ہیں وہ۔لیکن ان رفعتوں کی طرف ان کی پرواز نہیں جن رفعتوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بنایا اور جن رفعتوں کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے ابنیاء کے ذریعہ سے ہدایت دی۔جن کا پانا انسان کے لئے آسان کر دیا کیونکہ اپنی سمجھ اور عقل کے ساتھ ان رفعتوں کے حصول کی راہیں اس پر روشن نہیں ہو سکتی تھیں۔زمین کی طرف جھکتے ہیں ان رفعتوں میں پرواز کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول سے بے رغبتی برتتے ہیں۔ساری کی ساری زندگی اس گندی دنیا، بے وفا دنیا کے لئے ہے۔اور اس کے ساتھ وَاطْبَانُوا بِهَا تیسری بات یہ بتائی کہ یہ لوگ مطمئن بھی ہو جاتے ہیں یعنی دنیا کے حصول کے بعد کسی اور اس سے بہتر چیز کے حصول کی طرف ان کی توجہ پھر ہی نہیں سکتی۔مزید ترقیات کا خیال ان کو ترک کرنا پڑتا ہے۔دنیوی ترقیات کے علاوہ جو مزید ترقیات ہیں ان کا تو روحانی ترقیات سے تعلق ہے نا۔ان کا تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے ساتھ تعلق ہے نا۔ان کو تو اللہ تعالیٰ کا پیار مل جانے کے ساتھ تعلق ہے نا۔ان کا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہو جانے کے ساتھ تعلق ہے نا۔ان کا تو ان راہوں پر چلنے سے تعلق ہے جن راہوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ہمیں نظر آئیں۔ان کا تعلق تو اس خاتمہ پر ہے، خاتمہ بالخیر پر جس کی طرف قرآن کریم نے صراط مستقیم کے ذریعے ہدایت دی۔ان کا تعلق تو ان جنتوں سے ہے جن جنتوں کی وسعت زمانی و مکانی جن جنتوں کی وسعت اپنی نعماء کے لحاظ سے، جن جنتوں کی وسعت خدا تعالیٰ کے پیار کے لحاظ