خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 576 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 576

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۷۶ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۰ء رب ان کے ایمان کی وجہ سے کامیابی کے راستہ کی طرف ہدایت دے گا اور آسائش والی جنتوں میں انہی کے تصرف کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ان جنتوں میں خدا کے حضور ان کی پکار یہ ہوگی۔اے اللہ تو پاک ہے اور ان کی ایک دوسرے کے لئے دعا یہ ہوگی کہ تم پر ہمیشہ کے لئے سلامتی ہو اور سب سے آخر میں بلند آواز سے یہ کہیں گے کہ اللہ ہی سب تعریفوں کا مستحق ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ان آیات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایسے انسان بھی بستے ہیں۔الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقاءَنَا جو ہمارے انعامات کی امید نہیں رکھتے ایسے انسان بھی بستے ہیں جو ہمارا خوف اور ہماری خشیت اپنے دلوں میں نہیں رکھتے۔لا يَرْجُونَ لِقاءَنَا یہ فقرہ بہت سی باتیں بتاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے یعنی دہر یہ جو ہیں وہ بھی خدا سے امیدیں نہیں رکھتے۔جو لوگ خدا کا ایک مبہم سا تصور اپنے ذہنوں میں پاتے ہیں۔ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اللہ ہے تو سہی لیکن اتنی عظیم ہستی ! اس کو کیا ضرورت پڑی کہ ہم حقیر لوگوں سے ذاتی محبت کا تعلق رکھے۔انگریزی میں اسے وہ کہتے ہیں امپرسنل گاڈ (Impersonal God ) یعنی ایسا خدا جو ذاتی تعلق اپنی مخلوق سے نہیں رکھتا۔اس کی طرف بھی الَّذِینَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا اشارہ کرتی ہے۔پھر وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی ہستی کا مبہم سا تصور اپنے دماغ میں رکھتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں کہ زندگی اسی دنیا کی زندگی ہے مریں گے سب کچھ ختم ہو جائے گا اُخروی زندگی نہیں۔اُخروی زندگی کے ساتھ جن دو چیزوں کا تعلق ہے دوزخ اور جنت وہ بھی نہیں۔اُخروی زندگی کی جنتوں کے لئے جن اعمالِ صالحہ کی ضرورت ہے ان کے بجالانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ہے ہی نہیں۔اُخروی دوزخ سے بچنے کے لئے جن بد اعمالیوں سے پر ہیز کرنے کی ضرورت ہے وہ بھی بے فائدہ ہے کیونکہ نہ اُخروی زندگی نہ اُخروی زندگی سے تعلق رکھنے والی کوئی جہنم الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا کا فقرہ ان سب قسم کے دماغوں پر حاوی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دماغ اس دنیا میں جو زندگی گزارتے ہیں اس کا نقشہ یہ ہے۔رَضُوا بِالْحَيُوةِ الدنیا وہ دنیا پر اکتفا کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت سے ان کے دل خالی ہوتے ہیں۔دنیا ہی دنیا