خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 572 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 572

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۷۲ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء ایسا کام۔فطرتیں بدل جاتی ہیں حالات میں عادتیں بن جاتی ہیں۔اور آخری معنے اس کے یہ ہیں قُلْ مَا يَكُونُ لَى اَنْ اُبَدِ لَهُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِی جھوٹ بولنا میری عادت نہیں۔چالیس سال تم میں رہا ہوں۔تم گواہ ہو کہ جھوٹ بولنا میری عادت نہیں ہے۔اس وجہ سے بھی عادت نہیں ہے کہ خدا کے پیار کی گود کا پالا ہوں۔میری فطرت بدلی نہیں جاسکتی تھی جب کہ خدا تعالیٰ کے نور نے میرا احاطہ کیا ہوا اور اس کی گود میں میں نے پرورش پائی ہو۔إن اتبع الا مَا يُوحَى اِلی میں بدلوں گا نہیں۔میں پیروی کروں گا اس وحی کی جو مجھ پر نازل ہوئی ہے اور جو میرے ماننے والے ہیں وہ میرے نقشِ قدم پر اس وحی کی پیروی کرنے والے ہوں گے جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔یہ ذمہ داری ہے جماعت احمدیہ کی۔اِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيم اگر نافرمانی کروں تو عذاب یوم عظیم سے میری حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔اُمت محمدیہ کا کوئی فرد نافرمانی کرے گا اپنی مرضی کے مطابق، ماحول سے متأثر ہوکر، خدا تعالیٰ کے کلام اور احکام کو بدلے گا اور سمجھے گا کہ وہ معاف کر دیا جائے گا اس بغاوت کے بعد بھی۔یہ بڑی خطرناک غلط فہمی ہے اس سے بچنا چاہیے۔خدا کی وحی نے اس دین کو، اس تعلیم کو ، اس نظام کو ، اس معاشرہ کو مکمل کر دیا۔الیوم أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المآئدۃ : ۴) میں ایک اور تصور بھی آ گیا۔ٹھیک ہے رد و بدل نہیں کوئی اور نہ لاؤ لیکن جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کو دور کیا جا سکتا ہے۔قرآن کریم نے اعلان فرمایا قرآن عظیم میں کوئی خامی نہیں جسے دور کرنے کی قیامت تک ضرورت ہے۔اس واسطے کسی رد و بدل کی بھی ضرورت نہیں۔یہ جو معاشرہ ہے اور نظام ہے اور اسلامی احکام کے مطابق زندگی گزارنا ہے، یہ ( بتا ) رہا ہے کہ اسلام تو مخالفتوں ( کی) گھناؤنی ظلمت کے باوجود اپنی روشنی کو پھیلاتا رہا اور اِنْ اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلی کا جو نظارہ تھا آپ کے متبعین میں بھی وہ چودہ سو سال میں ( نظر آ رہا ہے ) بڑا لمبا مضمون بنتا ہے۔عمروں کے لئے کافی نہیں ہے۔۔۔۔کئے گئے اب اس وقت، اُس وقت کسرئی اور قیصر تھے۔اس وقت امریکہ، یورپ، ماسکو USSR اور چین وغیرہ