خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 571 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 571

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۷۱ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء سامنے ہر مخلوق لرزاں ہے۔میں بھی ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے نافرمانی کی تو میرا کیا حال ہوگا۔میں یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ خدا کا کلام ہو اور میں اس میں رد و بدل کرنا شروع کر دوں۔قُلْ مَا يَكُونُ لى أَنْ أَبَد لَهُ مِنْ تِلْقَابِی نَفْسِی میں یہ نہیں کر سکتا۔تیسرے۔قُلُ مَا يَكُونُ لِي کے معنے یہ ہیں۔میں بچہ تھا۔یتیم ہو گیا۔مجھے پہچاننے والے نہیں تھے۔مجھ سے دشمنی کرنے والے سارے ہی تھے۔چند ایک تھے اپنے جو تھوڑا بہت مجھے پہچانتے تھے۔جب خدا نے کہا میرے نام پر، میری تعلیم کی طرف رؤسائے مکہ کو اور ساری دنیا کو بلاؤ تو سارے ہی میرے مخالف ہو گئے۔میری جان کے دشمن ہو گئے۔تیرہ سالہ کی زندگی میں مجھ پر اور مٹھی بھر میرے ماننے والوں پر انتہائی مظالم انہوں نے ڈھائے۔خدا نے کہا ہجرت کر جاؤ۔میں مدینہ چلا گیا خدا کے حکم سے۔میرا پیچھا کیا انہوں نے۔میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔سارے کے سارے عرب کو میرے خلاف اکٹھا کر لیا۔حملہ آور ہو گئے مدینہ پر۔ہوتے رہے۔جب کچھ جوش ان کا ٹھنڈا ہوا تو کسریٰ اور قیصر کو میرے خلاف کر دیا۔اتنی زبر دست طاقتیں ایک اکیلے کے خلاف جمع ہو گئیں کہ ان کی ایڈا سے بچنا ناممکنات میں سے تھا۔اگر ، اگر میرا خدا مجھ پر احسان نہ کرتا جس نے پہلے دن سے مرتے دم تک احسان پر احسان کیا مجھ پر۔میری جھولیاں بھر دیں اپنے احسانوں سے اور ا اپنی بشارتوں سے قیامت تک کے لئے میری اُمت کی خوشحالی کے سامان پیدا کر دیئے۔اتنے بڑے احسان کے بعد مجھ سے یہ ہوسکتا ہے؟ قُلْ مَا يَكُونُ لَى أَنْ أَبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاء نَفْسِی کہ میں خدا کے کلام کو اپنی طرف سے بدل دوں۔میں بے وفا اور احسان گش نہیں ہوں۔اور چوتھے یہ قُل مَا يَكُونُ إِلَى أَنْ أَبَدِ لَهُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِی کے یہ ہیں۔اعلان کر دو کہ خدا نے میری فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ میں افتر انہیں کرتا۔میری فطرت جو ہے وہ افترا نہیں کرتی۔میں خدا پر کیسے افتر ا کروں۔خدا مجھے کہتا ہے یہ تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرو۔تمہاری خاطر تمہیں خوش کرنے کے لئے تمہاری مرضی کے مطابق میں رد و بدل کیسے کردوں۔قُلْ مَا يَكُونُ لِي ان أبَدِلَهُ مِنْ تِلْقَای نَفْسِی میری فطرت Revolt ( کراہت) کرتی ہے۔میں نہیں کرسکتا