خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 569 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 569

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۶۹ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء سے کیا کچھ دکھ اور در داٹھانا ہوگا بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارہ کر کے اپنے مولا کا حکم بجالائے (اِنْ اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلى ) اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔“ یہ ایک قسم کی تمہیدی رنگ میں تھی۔اس کے بعد اب میں اصل مضمون کو لیتا ہوں یعنی وہ نصیحت جو میں جماعت کو کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ ان آیات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تعلیم ہمارے حق میں دی وہ خدا تعالیٰ کی وحی سے آپ نے حاصل کی ، اپنی طرف سے کچھ نہیں دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نور ہم تک پہنچایا وہ اللهُ نُورُ السموتِ وَالْأَرْضِ اللہ کے نور کا ہی ایک حصہ تھا جسے آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں بانٹنا چاہتا تھا۔وہی نور ہے اس سے باہر ساری ظلمات اور اندھیرے ہیں۔یہ جس کو ہم معاشرہ کہیں جو آپ پیدا کرنا چاہتے تھے امت محمد یہ میں اسے ہم نظام کہیں، اسے ہم ضابطہ حیات کہیں ان آیات سے واضح ہے کہ جو کچھ بھی اسے ہم کہیں یہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی چیز نہیں ہے۔یہ تعلیم خدا تعالیٰ نے ہماری طرف بھیجی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم واسطہ ہیں اور اسی طرح آپ کے لئے ضروری تھا اس تعلیم پر عمل کرنا اور سب سے بہتر طور پر اور حسین طور پر ر اور نور سے بھر پور طور پر محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعلیم پر عمل کیا ہے۔اسی وجہ سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اسوۂ حسنہ بنادیا۔یہ نظام خدائی نظام ہے۔یہ تعلیم ، یہ معاشرہ خدا نے قائم کیا۔ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم نہیں کیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس تعلیم کو لانے والے، اس نور کو پھیلانے والے ظلمات انسانی کو دور کرنے والے ہیں لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم یہ نظام بنانے والے نہیں ہیں۔اس تعلیم کے موجد، اس تعلیم کے مصنف جو ہیں اور معلم جو ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں وہ ہمارا رب کریم ہے۔اس نظام ، اس تعلیم کے متعلق یہ جو مطالبہ ہے کہ انتِ بِقُرانِ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِلْهُ یہ اگر ہم چودہ سوسالہ تاریخ پر نظر ڈالیں۔صرف مخالفین کا نہیں بلکہ ہر بدعت جودنیا کے کسی علاقہ میں امت محمدیہ کے کسی گروہ میں پیدا ہوئی زبانِ حال سے یہ مطالبہ تھا کہ قرآن کو بدلو ہمارے لئے ، ہماری مرضی