خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 554 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 554

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۵۴ خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ء جھوٹ ، دھوکہ اور فریب کے ذریعہ سے دوسرے کے اموال لے کے ان کو ہضم کرنے سے اس لئے منع کرتے ہیں کہ ایسا کرنا ایسا ہی ہے کہ بھوکوں مارنا۔جب دوسروں کا مال لو گے تو غربت اس کی موت تک بھی اس کو لے جاسکتی ہے۔تو بھوکوں مارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اسلام زندہ کرنے ، اسلام صحت مند بنانے ، اسلام معمور الاوقات بنے کی فضا پیدا کرنے کے لئے دنیا کی طرف آیا ہے۔تم کوشش کرتے ہو کہ دوسرے کے مال کو لوٹو اور سینکڑوں ہزاروں لاکھوں افراد اور بیسیوں قوموں کو بھوکا مار دو۔جیسا کہ بعض ملکوں نے کیا۔جب انہوں نے دوسرے ملکوں پر اپنی حکومتیں قائم کیں کئی سو سال تک۔جب میں گیا افریقہ کے دورہ پر تو پہلا ملک جہاں میں پہنچا وہ تھا نائیجیر یا پہلے دو تین دن میں مجھ پر یہ اثر کہ خدا تعالیٰ نے اہل نائیجیریا کو ہر قسم کی دولت سے مالا مال کر دیا تھا مگر وہ جو اعلان یہ کر کے آئے تھے کہ ہم ” خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام لے کے تمہارے پاس پہنچے ہیں کچھ نہیں چھوڑا ان کے پاس۔سب لوٹ کے لے گئے۔بھوکے مر رہے تھے وہ۔میں وضاحت اس وقت کر رہا ہوں کہ یہاں اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ دوسروں کے مال لوٹنا ایسا ہی ہے جیسے بھوک سے انہیں مار دینے کا منصوبہ اور کوشش کرنا۔میں نے اپنے دوستوں کو کہا کہ میرا تاثر یہ ہے کہ خدا نے تمہیں سب کچھ دیا تھا۔سب کچھ ہی تم سے لوٹ کے لے گئے یہ لوگ You have all You were deprived of all تمہیں سب کچھ خدا کی طرف سے ملا تھا۔ہر چیز سے تمہیں محروم کر دیا۔دو ایک روز کے بعد اس وقت کے صدر سے بھی میری ملاقات تھی۔ان کو میں نے یہ بتایا کہ میرا یہ تاثر ہے میری بات سنتے ہی فوری طور پر ان کا رد عمل یہ تھا !How true you are۔How true you are کیسی سچی بات آپ کہہ رہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک واضح اشارے سے ہمیں بتایا ہے کہ ناجائز اور ناحق دوسروں کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسا انہیں قتل کرنے کی کوشش کرنا۔یہ اشارہ اسطرح واضح ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہی کہ دیا وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُم کیونکہ قتل بھوکے مارنے کے علاوہ بھی ہوتے ہیں۔تو ہر قسم کے قتل سے ہم تمہیں روکتے ہیں۔بھوکا مارنے کے قتل سے بھی اور دوسری قسمیں جو قتل کرنے کی