خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 550 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 550

خطبات ناصر جلد هشتم خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ء کے ساتھ تجارت کے ذریعہ سے ہو اور تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔اللہ یقینا تم پر بار بار رحم کرنے والا ہے وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا اور جو شخص بھی دوسرے کا مال زیادتی اور ظلم کی وجہ سے کھائے گا اسے ہم ضرور آگ میں ڈالیں گے اور یہ امر اللہ کے لئے آسان ہے اور اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر شفقت کرے اور جو لوگ بڑی خواہشوں کے پیچھے پڑتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بدی کی طرف بالکل جھک جاؤ۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ کو ہلکا کرے اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے ان آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں۔۔یہاں یہ بتایا گیا کہ بعض لوگ دنیا میں ایسے ہیں کہ جو ایک دوسرے کا مال ناحق اور ناجائز طور پر کھاتے ہیں، ناجائز اور ناحق مال کھانے کے انسان نے بہت سے طریقے ایجاد کر لئے ہیں۔چوری کے ذریعہ سے، ڈکیتی کے ذریعہ سے کم ماپ تول کے ذریعہ سے ، ملاوٹ کے ذریعہ سے، ناقص مال دینے کے ذریعہ سے، رشوت کے ذریعہ سے، حکام پر اثر و رسوخ ڈال کر دوسرے کا مال غصب کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے وغیرہ وغیرہ۔لمبی فہرست ہے ساری یہاں دہرائی نہیں جاسکتی تو فرمایا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر طریق ناجائز اور ناحق مال کے کھانے کا استعمال کرتے اور دوسروں کا مال ہوتا ہے اور اس کو خود ناحق اور ظلم کرتے ہوئے لیتے ہیں اور اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ب۔دوسرے یہ فرما یا کہ ہم اے مومنو تمہیں حکم دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کا مال جھوٹ اور فریب کے ذریعہ سے ناحق اور نا جائز طور پر مت کھاؤ۔دولت تو ہے ہی ایک ہاتھ سے نکل کے دوسرے کے ہاتھ میں جانیوالی جہاں تک دولت کا ایک ہاتھ سے نکل کے دوسرے ہاتھ میں جانا ہے اسلام نے بنیادی طور پر یہ حکم دیا ہے کہ ہر شخص اپنا حق لے غیر کا حق نہ مارے اور اسطرح پر اقتصادی زندگی میں اسلام نے جو ایک فضا پیدا کی ہے۔امن اور سکون کی وہ ہر اس فضا سے مختلف ہے جو دنیا کے ہر دوسرے نظام نے انسانوں کے اندر قائم کی ہے۔یہاں جو سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات انسان کے لئے تھی اس کو نمایاں کر کے پیش کیا اور وہ یہ کہ ناحق مال کھانے کی نیت ہے اور اس کے لئے جواز پیدا کرنا ہے حاکم وقت