خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 545
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۴۵ خطبه جمعه ۱۸ ؍ جنوری ۱۹۸۰ء بہت سی باتوں کو وہ سمجھتے ہیں۔بعض باتوں میں ان کی عقل ان کا ساتھ نہیں دیتی اور ناکامی کا منہ دیکھ رہے ہیں لیکن بعض باتوں میں ان کی عقل ، عقل رہا ہے۔چاند تک وہ پہنچ گئے۔سورج کے گرد چاند سے بھی دور جو ستارے ہیں ان کی تصویریں انہوں نے یہاں زمین پر حاصل کر لیں لیکن ایک حصہ مفلوج بھی ہے اور کوئی مفلوج ہستی ترقی نہیں کیا کرتی حقیقی معنی میں۔مثلاً پرندہ ہے اور وہ مثال اس لئے آگئی کہ ہم بھی کبھی کبھی شکار کرتے ہیں۔اس کو اللہ تعالیٰ نے دو پر دیئے ہیں اڑنے کے لئے لیکن اگر شزہ لگے اور صرف ایک پر اس کا ٹوٹ جائے اس کا سارا جسم صحیح سلامت اس کا دوسرا پر صحیح سلامت۔اس کو انگریزی میں کہتے ہیں Winged یعنی اس کا ایک پرٹوٹ گیا ہے اسی وقت وہ ہوا میں سے زمین پر گر جاتا ہے۔تو یہ مفلوج ان کو کہہ لو۔مفلوج ہیں ، یہ Winged ہیں۔یہ اپنے ہی شکار کر چکے ہیں۔خود انہوں نے اپنا شکار کیا۔اپنے ہتھیاروں سے اپنے لئے ہلاکت کے سامان پیدا کر لئے۔ہم نے ان کے زخمی پر پر مرہم لگانی ہے اور خدا نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور اسلامی تعلیم کو سمجھتے ہوئے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرتے ہوئے دنیا کے لئے ایک نمونہ اپنے نفسوں کو بنا ئیں گے تو ہم جو مر ہم ان کے ٹوٹے ہوئے پر کو لگا ئیں گے اس پر کو جوڑ دے گی لیکن اگر ہم خود Winged ہو جائیں۔اگر خود ہماری زندگی جو ہے وہ مفلوج ہو جائے۔ایک حصہ میں ہم ترقی کرنے والے ہوں گے اور دوسرے حصہ میں ہم تنزل کی طرف جانے والے ہوں تو دوسروں کی ہم نے کیا فکر کرنی ہے ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے پھر۔اس وقت ہماری زندگی کا جو یہ وقت ہے اس کی طرف میں اشارہ کرتا ہوں قریباً نوے سال گزر گئے۔ان نوے سالوں میں بڑے بڑے انقلاب آئے۔اور میں نے بہت سوچا اور جو سوچنے والے ہیں ان سے میری گفتگو ہوئی۔ہمارے دماغوں میں بڑی وضاحت سے یہ بات آئی ہے کہ ہرا نقلاب جو اس نوے سال میں نوع انسانی کی زندگی میں پیدا ہوا ہے وہ غلبۂ اسلام کے حق میں پیدا ہوا ہے۔بعض ایسے انقلاب ہیں مثلاً جو اسلام سے بظاہر دور لے جانے والے ہیں مثلاً وہ علاقے جو پہلے ایک دھندلا سا تصور اللہ تعالیٰ کا رکھتے تھے اب وہ دھر یہ ہو گئے اور انہوں