خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 539
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۳۹ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۸۰ء بہت زیادہ آگے نکل گیا۔ہائیڈ روجن بم بنالئے اور بہت سارے ایسے ہتھیار انسان کو مارنے کے لئے بنا لئے انسان نے۔اور سوچیں تو اس کا فائدہ ان قوموں کو بھی نہیں جنہوں نے یہ ہتھیار بنائے۔تباہی ان پر بھی اسی طرح آئے گی جس طرح ان کی طرف جھکنے والوں کے لئے خطرہ ہے۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ ایسے ہتھیار بھی انسان ایجاد کر لے گا کہ علاقے سے زندگی ختم ہو جائے گی یعنی خالی انسان نہیں مرے گا بلکہ جانور بھی اور حیوان بھی ، درندے بھی چرندے بھی ( چرنے والے جانور ) اور کیڑے مکوڑے بھی اور بیکٹیریا بھی اور وائرس (Virus) بھی۔ہر قسم کی زندگی جو ہے وہ ختم ہو جائے گی اس ہتھیار کے نتیجہ میں۔اس کے ایک دو نظارے ہم نے دیکھے اور اگر خدانخواستہ اس قسم کی تیسری عالمگیر جنگ ہوئی تو دنیا کے بہت بڑے علاقے ایسے ہوں گے جہاں سے نہ صرف انسان بلکہ زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا ایسے ظالم جو ہیں اور یہ ظالم جو ہیں ہمیں نظر آ رہے آج وہ ، وہ ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ مہذب، سب سے زیادہ آگے نکلے ہوئے۔سب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ انسان کو ڈرانے والے وہ قومیں ہیں وہ ذمہ دار ہیں اس کی۔لا تركنوا جو کہا گیا کہ تم نہ جھکو۔اس کی بنیادی شکل جو بنتی ہے کہ نہیں جھکے ہم۔وہ یہ بنتی ہے کہ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور انسان کی تباہی کے جو سامان ہیں ان کو استعمال کرنے کی یہ جرأت نہ کر سکیں ہم میں اتنی طاقت تو نہیں کہ ہم مثلاً امریکہ کا ہاتھ پکڑ لیں یا روس کا ہاتھ پکڑ لیں یا چین کا ہاتھ پکڑ لیں یا بعض دوسری قومیں ہیں ان کا ہاتھ پکڑ لیں لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ سمجھ تو دی ہے کہ ہم اس کا دامن پکڑیں جو ان کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔ہم خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں اور ہمارا یہ دعا مانگنا پوری بیداری کے ساتھ اور ہوش میں آکر اور سمجھ کے ساتھ اور یہ جانتے ہوئے علی وجہ البصیرت کہ انسان تباہی کے گڑھے کے کنارے پر کھڑا ہوا ہے اور سوائے خدا تعالیٰ