خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 514
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۱۴ خطبه جمعه ۲۸ /دسمبر ۱۹۷۹ء کرو اور سب سے بہتر کتاب اور سب سے مفید کتاب، سب سے زیادہ ترقیات کی طرف لے جانے والی کتاب قرآن کریم ہے۔اس لئے جس کتاب کے متعلق خصوصا زور دے کر کہا گیا کہ پڑھو وہ قرآن کریم ہے اور پھر قرآن کریم ہی کے جو سچائیوں پر مشتمل کتب ہیں وہ قرآن کریم ہی کی بالواسطہ یا بلا واسطہ تفاسیر ہی ہیں۔دوسرے معنے ہیں سنو اور پھر اسے دہراؤ۔جو سنا ہے اُسے دہراؤ۔یہ علم سیکھنے کے لئے ضروری ہے کیونکہ علم سیکھنے کے لئے استاد کی ضرورت ہے۔استاد کہتا ہے، طالب علم سنتا ہے پھر اسے دہراتا ہے۔سنو اور دہراؤ۔جس طرح سیکھنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح سکھانے کے لئے بھی ضروری ہے جو سیکھو اور دہراؤ۔سیکھنے کے لئے ، یاد کرنے کے لئے ، اسے دوسروں تک پہنچانے کے لئے بھی دہراؤ۔یہ سارے مفہوم اقرا کے اندر آ جاتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس رب کے نام سے جس نے پیدا بھی کیا اور جس نے تمہاری نشو ونما اور ربوبیت کے سامان بھی پیدا کئے پڑھو اور دہراؤ۔جو سنا ہے اسے دوسروں کو پہنچاؤ۔سناؤ اسے۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔یہ خالق رب جہاں تک اس کا ئنات میں انسان کا تعلق ہے، اس خالق رب نے انسان کو علق سے پیدا کیا۔قرآن کریم کی مختلف آیات میں جو انسان کی تخلیق کا ذکر ہے اس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ طین سے انسان کو بنایا، گیلی مٹی سے۔اس گیلی مٹی کو مختلف مدارج میں سے گزارتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے ذلیل سے مائع قطرے کی شکل دی جو مادر رحم میں پڑتا اور وہاں ایک فرد واحد انسانوں میں سے۔وہ اس کا وجود بننا شروع ہو جاتا ہے۔پھر رحم مادر میں بہت سے مدارج میں سے وہ گزرتا ہے۔پھر پیدائش کے وقت وہ انسان اپنے جسم کے لحاظ سے وہ ایک وجودا اپنی پہلی تکمیل میں ظاہر ہوتا ہے۔علق جو ہے خون کا لوتھڑا، ان مدارج میں سے ایک ایسا درجہ ہے ارتقائی مدارج جن میں سے طین گیلی مٹی گزری اور انسان بنا کہ جس میں ایک انقلابی پہلے جو مدارج ہیں ان میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہو کے عَلق بنا اور پھر یہ مدارج میں سے گزرتا ہوا ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہوئی