خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 503
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۰۳ خطبہ جمعہ ۱۴ ؍دسمبر ۱۹۷۹ء تمہیں پیدا کیا اُمت مسلمہ میں ، اس غرض کو اپنی زندگی کے اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہو، اس مقدر کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو خدا سے استعانت چاہو، اس کی مدد، اس کی نصرت ، اس کا فضل ، اس کی رحمت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔کیسے کوشش کرو؟ صبر کے ساتھ اور صلوۃ کے ساتھ۔صبر کا تعلق انسان کی اپنی جدو جہد ، اس کی اپنی سعی کے ساتھ ہے۔اپنے مجاہدہ کے ساتھ ہے جو روحانی میدانوں میں وہ بجالاتا ہے۔صبر کا ایک پہلو یہ ہے کہ استقامت کے ساتھ برائیوں سے بچے، اپنے نفس کو نواہی سے بچنے پر باندھے رکھے۔یہ ہیں صبر کے معنی ایک پہلو کے لحاظ سے۔پوری کوشش کرے کہ کوئی ایسا عمل اس سے سرزد نہ ہو جو ( خدا کے فرمان کے مطابق ) خدا کو ناراض کرنے والا ہے اور صبر کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ جرات اور شجاعت کے ساتھ نیکیوں کی راہوں پر گامزن رہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری مدد حاصل کر وصبر کے ذریعہ سے کوشش کرو کہ تم سے گناہ سرزد نہ ہو اور کوشش کرو کہ ہمیشہ نیکیاں سرزد ہوتی رہیں۔اعمال صالحہ تم بجالاتے رہو اور یہ تمہاری کوشش ہو۔لیکن یہ کافی نہیں اس کے لئے بنیاد بناؤ اپنے عمل کو ، اور صلوٰۃ کو ، خدا سے دعائیں مانگو ، خدا کو یا درکھو، خدا کی صفات اور اس کی ذات کی معرفت حاصل کرو اور خدا تعالیٰ کی عظمتوں کو اپنے ذہن میں حاضر رکھتے ہوئے ان عظیم صفات کا واسطہ دے کر اس سے مانگو (مدد) کہ وہ قدم صدق ظاہر و باطن طور پر جو ایک کامل درجہ مقرر ہے وہاں تک تمہیں پہنچا دے۔اعمالِ صالحہ بجالا و بدیوں سے پر ہیز کرومگر اس کے نتیجہ میں نخوت پیدا نہ ہو بلکہ سمجھو اور یقین کرو کہ اپنی کوشش کوئی شے نہیں جب تک اس کے ساتھ صلوۃ دعا اور مقبول دعا کا جو نتیجہ ہے یعنی خدا تعالیٰ کا فضل ، اس کا نزول نہ ہو اس وقت تک کچھ ہو نہیں سکتا۔اگر اس استعانت میں مدد کے حاصل کرنے میں تم اپنی نیت کے خلوص کے نتیجہ میں، اگر تم اپنے جذبۂ ایثار اور قربانی کے نتیجہ میں، اگر تم اپنے پیار کی شدت کے نتیجہ میں اگر تم اپنے فدائیت کے حسن کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرسکو گے تو تمہارے اعمال مقبول ہو جائیں گے جو صبر کی تعلیم کی روشنی میں تم بجالائے اور جب تمہارے اعمال مقبول ہو جائیں گے تب تم اس قسم کے مومن بن جاؤ گے۔وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا