خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 499 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 499

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۹۹ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۹ء میں وہ علم جن کا دنیا کے ساتھ تعلق ہے بظاہر یا وہ علم جس نے غلط فکر نے محض دنیوی علوم سمجھے جانے لگے وہ ان کی بنیادی باتیں قرآن کریم سے ہمیں پتالگتی ہیں لیکن روحانی زندگی تو اس دنیوی زندگی کے مقابلہ میں ہر پہلو اور ہر جہت سے اہم بھی ہے اور اس قابل ہے کہ اس کے حصول کے لئے اس دنیا کی ہر چیز قربان کر دی جائے۔یہ دنیا عارضی ، تھوڑے وقت کے لئے اس کی نعمتوں میں اگر مٹھاس ہے تو کڑواہٹ بھی ہے۔اگر خوشی ہے تو تلخی بھی ہے۔اگر آرام ہے تو دکھ بھی ہے ہر چیز ملی ہوئی ہے انسان کی زندگی میں لیکن اس کے مقابلہ میں جو اُخروی زندگی ہے اس میں تو ایک ایسی زندگی ہے جس میں موت نہیں۔ایسی صحت والی زندگی ہے جس میں بیماری نہیں۔ایسا احساس سیری کا۔سیری کا احساس ہر لحاظ سے ہوتا ہے صرف روٹی کھا کے نہیں ہوتا۔سیری کا ایسا احساس ہے جس میں بھوک کا کوئی دخل نہیں۔ترقیات کے ایسے دروازے ہیں جو کبھی بند نہیں ہوتے۔یہاں تو اس زندگی میں بند ہو جاتے ہیں۔بڑھاپے کی عمر آتی ہے۔علم آدمی جو ساری عمر سیکھتا رہا، وہ بھول گئے۔بڑا زمین و آسمان کا فرق ہے۔تو وہ علم جو اُخروی رضائے الہی کی جنتوں کی نشاندہی کرنے والا۔ان کی راہوں کو کھولنے والا ہے۔وہ قرآن کریم کا علم ہے۔اس واسطے میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں جامعہ احمدیہ کے بھی طالب علم اور اسا تذہ۔اصل علم کے میدانوں میں جو قیادت کرنی ہے جو ہدایت دینی ہے۔راہنمائی جن کے حصہ میں آئے وہ ، وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو سمجھا اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں میں ایک عظیم نور پیدا کرنے کی کوشش کی دعاؤں کے ذریعہ سے بعض طالب علموں کو بھی چند دن ہوئے میں نے کہا تھا کہ تمہارے دو حصے ہیں۔ایک وہ جو تمہیں کتا بیں پڑھائی جاتی ہیں قرآن کریم کی تفسیر ہے، احادیث ہیں وغیرہ وغیرہ۔ان کا تعلق تمہارے اساتذہ اور کتب سے ہے ایک تمہارا کورس ہے جس کا تعلق صرف تم سے ہے اور وہ یہ ہے کہ تم دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ اس عظیم علم کے سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی تمہیں تو فیق عطا کرے اور یہ تو ہمارے جامعہ میں پڑھے ہوئے یا دوسرے علماء جو ہیں یا نہیں بھی پڑھے ہوئے وہ بھی پڑھ کے دعائیں کر کے علم حاصل کرتے ہیں۔ساری جماعت کو ، قرآن کریم کی روشنی سے روشنی لے کر روشن راہوں پر