خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 490
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۹۰ خطبہ جمعہ کے ردسمبر ۱۹۷۹ء ہماری جماعت میں قاضی محمد اسلم صاحب ماہر نفسیات کو اس میں شغف ہے۔بہتوں کو انہوں نے مشورے دیئے۔اچھے بھی دیئے۔نہیں بھی دیئے ہوں گے اچھے۔اور اپنے بیٹے کو انہوں نے غلط مشورہ دے دیا۔وہ کہے میرا دماغ نہیں جاتا سائنسز کی طرف مجھے آرٹس پڑھنے دیں اور یہ اس کو کہیں کہ نہیں میرا دل کرتا ہے کہ تم سائنسز پڑھو اور اس کو بڑی مشکل پڑی اور اس وقت شاید اس کا ایک سال ضائع ہوا یا نہیں ہوا بہر حال کچھ وقت اُسے تکلیف اٹھانی پڑی اور باپ ماہر غلطی سے مظلوم بیٹے کو غلط راستے پر چلانا چاہتا تھا لیکن وقت پر اس نے اپنا مضمون بدلا اور اس میں وہ بڑی ترقی کر گیا آرٹس میں۔اور مقابلوں کے امتحان میں بڑے اچھے نمبر لے کر وہ آگے نکلا۔تو اس قسم کا ہمارے ہاں ماحول بھی نہیں۔ہمارے پاس ما ہر بھی نہیں لیکن جس حد تک ہو سکتا ہے ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہیے جو دسویں سے آگے نکلتے ہیں ان کو یعنی انٹرمیڈیٹ، پری میڈیکل، پری انجینئر نگ اور آرٹس، تینوں جو حصے بنتے ہیں اس میں احمدی بچے کو چوکس رہ کر سنبھالنا جماعت احمدیہ کا بنیادی فرض ہے اور جو اس کے بعد یعنی انٹرمیڈیٹ کے بعد مثلاً انہوں نے طب کا لیا۔میڈیکل کورس لیا یا انجینئر نگ کا لیا یا سائنسز کے دوسرے مضامین ہیں وہ آگے جا کر بہت ترقی ان میں کر سکتا ہے۔فزکس ہے، کیمسٹری ہے، باٹنی زوالوجی ہے وغیرہ وغیرہ اب تو سائنسز کے نام بھی نئے علوم مدون ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔جیسا کہ ایک دفعہ میں نے بتایا تھا ایک نئی سائنس بن گئی۔سائنس آف چانس۔یہ اتفاق - اتفاق۔اتفاق انسان جو کہتا تھا تو سوچنے والوں نے سوچا۔فکر کرنے والوں نے فکر کی اور اس کو ایک سائنس میں تبدیل کر دیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا کوئی خالق، کوئی رب ، کوئی ایک واحد ہستی ایسی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔بہر حال جو آگے جاتے ہیں وہ پھر کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو درمیانے درجہ کے ہیں یا درمیانے درجے کے بھی نچلے حصے میں ہیں۔وہ ایم ایس سی کر لیتے ہیں لیکن ان کا ذہن بہت اچھا نہیں Genius نہیں۔وہ یہاں کی تعلیم ہمارے ملک کی جو ہے وہ ان کے لئے کافی ہے۔ان کو سہولت ملنی چاہیے۔ان کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ان کی غذا کا خیال