خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 489
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۸۹ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۹ء عملی جو اس کی شکل بنے گی اس کی ذمہ داریاں Shift کریں گی۔اپنا مقام چھوڑیں گی۔مثلاً ایک بچہ ہے وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔وہ پرائمری تک بھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔جب تک اس کی مدد نہ کی جائے۔اس کی مدد ہونی چاہیے۔کئی خط میرے پاس آ جاتے ہیں ایسے کہ پرائمری تک تو ہم نے اپنے بچے کو پڑھا دیا مڈل تک نہیں پڑھا سکتے۔ہمارے بچے کے لئے کوئی انتظام کریں۔جہاں تک ہوسکتا ہے کرتے ہیں لیکن اس طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔جہاں تک پرائمری تک پڑھانے اور آگے پھر مڈل تک پڑھانے کا سوال ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کی قریباً ساری ذمہ داری مقامی جماعتوں کو اٹھانی چاہیے۔قریباً میں نے اس لئے کہا کہ بعض جگہ نئی نئی جماعتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور تعداد کے لحاظ سے اور مالی وسائل کے لحاظ سے وہ عملاً پرائمری تک کی ذمہ داری اٹھانے کے بھی قابل نہیں ہوتیں۔اس صورت میں مرکز کو جہاں تک ممکن ہو ان کی مدد کر نی چاہیے۔بعض ایسے خط آجاتے ہیں کہ مڈل تک پڑھا دیا آگے نہیں پڑھا سکتے اور بچہ پڑھنے کے قابل ہے اسے پڑھانا چاہیے لیکن دسویں تک میں نے جو کہا اس کی ایک وجہ تھی اس وقت میرے ذہن میں۔اور وہ یہ تھی کہ ساری دنیا نے۔جو امیر دنیا ہے انہوں نے ایک معیار ایسا رکھا ہے جس کے بعد جو محض علم والا حصہ ہے اس میں ایک روک پیدا کرتے ہیں اور ہنر اور علم جہاں مل جاتے ہیں اس طرف ان کو پھیر دیتے ہیں مثلاً ایک بچہ ہے انگلستان کا ان کے ویسے نام کلاسوں کے اور ہیں۔اے لیول (A Level) اور اولیول (Level ) وغیرہ وغیرہ لیکن جو بھی ہیں اُن کے نام وہ ایک خاص لیول (Level) کے بعد بچے کو کہتے ہیں کہ آگے تم نہ جاؤ۔تمہارا ذہن انجینئر نگ کی طرف جاتا ہے۔بہت ذہین نہیں تم انجینئر نہیں بن سکتے لیکن چھ ٹیکنیشن بن سکتے ہوتو وہ ہنر سیکھو۔اس میں پھر وہ کہتے ہیں اور بچے کو یہ ہدایت کرتے ہیں ، اس کو مشورہ دیتے ہیں ، گائیڈ کرتے ہیں کہ تمہارا ذہن ایسا ہے کہ بجلی سے تعلق رکھنے والی انجینئر نگ کے تم اچھے ٹیکنیشن بن سکتے ہو۔پھر ادھر اس کو منتقل کر دیتے ہیں تو ساری قوم مدد دیتی ہے بچے کو اس راہ کی تعیین میں جس میں وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکتا ہے۔یہاں ایسے سامان نہیں۔ماحول بھی ایسا نہیں۔ہمارے ہاں