خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 480

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۸۰ خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۷۹ء بلالی جاتی ہے اور تازہ دم فوج آتی ہے آگے اور ایک مسلمان صف جو ہے وہ صبح سے لے کر شام تک ہر گھنٹے بعد تازہ دم، ہر آدھے گھنٹے بعد تازہ دم فوج کے ساتھ وہ لڑ رہی ہے اور تلوار چلا رہی ہے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل، اس کے رحم ، اس کی ربوبیت کے نتیجہ میں اور عقلوں کی راہنمائی کے نتیجہ میں اور تجربہ کے نتیجہ میں اور مشق کے نتیجہ میں ان کو ایسا بنا دیا ہے کہ وہ صبح سے شام کر دیتے ہیں اور تھکتے نہیں۔میں نے پہلے جب بتایا تھا تو یہیں آ کے بات ختم کر دی تھی لیکن یہ تو دن کی بات تھی ناوہ تھکتے نہیں۔جس وقت آدھا گھنٹہ گھنٹہ تلوار چلانے والی کسری کی فوج رات کو تھکی ماندہ گہری نیند میں پڑ جاتی ہے اس وقت سارا دن تلوار چلانے والا مسلمان رات کو خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔میدان جنگ میں وہ تہجد کی نماز ادا کر رہے ہیں۔یہ ان طاقتوں کی نشوونما کے لئے کسی چیز کی ضرورت ہے اس کی اپنی طاقتوں کے علاوہ اور دوسرے جہان سے علاوہ بھی یعنی جو کائنات جو طاقتیں پیدا کرنے والی چیزیں ہیں ان کے علاوہ بھی کسی چیز کی ضرورت ہے۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا یہ جو دوسرا جلوہ ہے نا یہ اس کی ضرورت ہے کہ کوئی پتا نہیں گرتا۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی آج کل گندم بیچ رہا ہے ہمارا زمیندار۔یہاں بھی بہت سے بیٹھے ہیں سینکڑوں۔کوئی دانہ گندم کا نہیں اُگتا جب تک اللہ تعالیٰ کی وحی اس کو نہ ہو۔حکم نہ اس تک پہنچے کہ آگ اور میرے بندوں کے لئے گندم پیدا کر۔اس کے بغیر مٹی بن جائے گامٹی میں پڑ کے اور انسان کی طاقتیں بھی خدا تعالیٰ کی ہدایت کی محتاج ہیں اور سب سے نمایاں چیز ہمارے سامنے آتی ہے عقل۔بہت ساری چیزوں کا سامنے رکھ کے اس سے کوئی نتیجہ نکالنا۔اس وقت بہت سے لوگ ایسے پیدا ہو گئے اس زمانہ میں جو کہتے ہیں انسان کے لئے عقل کافی ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ عقل نہیں کافی جب تک عقل کی اس عام ہدایت کے مطابق جو عقل کو دی گئی۔عقل کو ہر موقع کے او پر جب اس کے استعمال کی ضرورت کسی فرد واحد کو پڑی ایک نئی ہدا یت آسمان سے نہ ملے۔آج دنیا میں ہزار ہا عقلمند ایسے ہیں جنہوں نے مادی دنیا میں تحقیق کی اور اپنی عقل کا اور تحقیق کا سکہ جمایا۔چوٹی کے دماغ ان کو کہا جاتا ہے۔قومیں جن کی انہوں نے خدمت کی ان کی