خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 479 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 479

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۷۹ خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۷۹ء وغیرہ ہزار قسم کی۔بہر حال آنکھ اس وقت دیکھتی ہے جب بیرونِ انسان خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ روشنی بھی ہو۔رات کے اندھیروں میں آنکھ ٹولتی تو ہے انسان کا سارا ذہن ہی لگا ہوا ہے اسے کچھ عادتیں ہیں اپنے کمروں میں پھرنے کی۔بغیر روشنی کے بھی وہ اپنا راستہ اندھیرے میں بھی تھوڑا بہت پالیتا ہے۔کبھی گرتا ہے کبھی ٹھوکر کھا جاتا ہے کبھی اپنے آپ کو چوٹیں لگاتا ہے لیکن آنکھ کے لئے روشنی کا ہونا ضروری ہے۔انسان کے جسمانی قویٰ جو ہیں جسمانی صلاحیتیں ، اس حصے پر میں پہلے بھی بہت کہہ چکا ہوں، اس کے مقابلے میں کائنات میں چیزیں پیدا کی ہیں انسان کے جسمانی قومی کی نشو ونما کے لئے انسان کو متوازن کھانا ضروری ہے یعنی کھانے میں توازن ہو کیونکہ انسان کا جسم کسی ایک کیمیاوی شے یا ایک کیمیاوی مرکب سے نہیں بنا بلکہ بہت سے مرکبات ہیں جن سے مل کے وہ بن جاتا ہے مثلاً ہڈی سے موٹی چیزیں میں لیتا ہوں باریکیوں میں جائے بغیر۔بچے بھی سمجھ جائیں گے۔ہڈی ہمارے گوشت سے مختلف ہے۔دل کا جو گوشت ہے یا جگر کا جو گوشت ہے وہ جو بکرے کا آپ گوشت کھاتے ہیں۔آپ کے دانت آپ کی آنکھیں ، آپ کی لمس محسوس کرتی ہے کہ یہ بکرے کے عام گوشت سے کچھ مختلف ہے۔تو جس چیز سے اس کا دل بنا ہے یا اس کی کلیجی بنی ہے وہ اس سے مختلف ہے۔بہت سارے مرکبات کا مجموعہ ہے۔اس واسطے متوازن غذا کھانا ضروری ہے۔خون ہے جو اس کی رگوں میں چل رہا ہے ممبرین (Membrane) ہیں۔جھلیاں ہیں جو اس کی صحت کی اور جان کی حفاظت کرنے والی ہیں۔ایک عالم ہے انسان کے جسم کے اندر بھی اور صرف اس عالم کو پیدا کرنا خدائی تقدیر میں نہیں کیونکہ ہر چیز میں ایک توازن ہے جو کائنات کا حصہ ہے انسان کے علاوہ اس کو ایک قسم کے توازن میں باندھا۔اللہ تعالیٰ نے اور انسان کو ایک اور قسم کے توازن کے اندر اس نے اس کو بالکل باندھ دیا اور پھر ان دو تو ازنوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر انسان کا تعلق اپنے ساتھ زوج کا یعنی پیار کے تعلق کا وہ اس کو باندھ دیا۔جہاں وہ مقصدِ حیات پورا ہوتا ہے۔اس کے لئے انسان کو جسمانی طاقتیں دی گئیں تا کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ قربانیاں دے۔وہ ایثار پیشہ بنے۔پہلے بھی میں نے بتایا تھا وہ یہ نظارہ دنیا کے سامنے رکھے کہ کسریٰ کی فوج کی ہر پہلی صف تلوار چلانے والی آدھے گھنٹے، گھنٹے کے بعد پیچھے