خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 478
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۷۸ خطبہ جمعہ ۳۰/نومبر ۱۹۷۹ء ایک دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی اور امت واحدہ بن جائے گی۔لیکن خدا پرسنل (Personal) ہے یعنی ذاتی تعلق رکھنے والا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ایک تقدیر شیشم کے درخت کی جو میں نے مثال دی یہ ہے قانونِ قدرت کے مطابق خدا تعالیٰ کے حکم سے، اپنی مرضی سے نہیں ، خدا کے حکم سے شیشم کا درخت موسم خزاں میں پتے گرا دیتا ہے اپنے۔لیکن موسم خزاں میں جب پتے گراتا ہے تو خدا تعالیٰ کا ایک اور حکم نازل ہوتا ہے ہر پتے کے لئے کہ گر۔تب وہ گرتا ہے ورنہ نہیں گرتا۔قانونِ قدرت کے باوجود ایک سیکنڈ میں تو ہر درخت کے پتے یوں نیچے نہیں گر جاتے۔کئی ہفتے لگتے ہیں پت جھڑ میں اور کچھ پتے صبح گرے، کچھ دو پہر کو، کچھ شام کو پت جھڑ لگی ہوئی ہوتی ہے آخر وہ درخت نگا ہو جاتا ہے لیکن یہ جو پتے گر رہے ہوتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہر پتا ایک نئے کلام، ایک نئے امر، ایک نئی وحی کے ذریعہ سے گرتا ہے ویسے نہیں گر سکتا یہ خدا تعالیٰ کی دوسری تقدیر ہے۔انسان کو خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں دیں اپنے قرب کے حصول کی تو اتنا کافی نہیں سمجھا گیا کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: ۵۷ ) کہ میرے عبد بنیں۔میرے عکس کو اپنے اندر پیدا کریں۔میری صفات کا نمونہ ان کے اخلاق کے اندر ظاہر ہو قانون بنادیا نہیں بلکہ ہر فر دو احد کو بے شمار وحی خفی یا اور جلی کے ساتھ اس کی ہدایت اور پرورش کی گئی اور اس کی ربوبیت کی گئی۔انسان کو جو اس میدان میں سب سے بڑی صلاحیت دی گئی وہ عقل ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا انسان کی ہر صفت پر اس توازن کا جو اصول چلتا ہے اس سے وہ کائنات کے ساتھ بندھی ہوئی ہے مثلاً آنکھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھ دی دیکھنے کے لئے لیکن آنکھ دیکھ ہی نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ کا ئنات میں سورج کی روشنی نہ پیدا کرتا یا روشنی نہ پیدا کرتا کہنا چاہیے۔پھر انسانی عقل نے خدا داد عقل نے بجلی بنائی۔دیئے بنائے کبھی سرسوں کا تیل جلا یا روٹی لگا کے کبھی اس نے شمعیں بنائیں، کچھ لکڑیاں ایسی نکالیں جن کے اندر چکنائی تھی ان کی مشعلیں بنادیں وغیرہ