خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۶۳ خطبہ جمعہ ۱۶ / نومبر ۱۹۷۹ء ہمیں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان کا ایک بنیادی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک لمحہ کے لئے بھی اگر تم نے دوری اختیار کی تو وہ ہلاکت کی راہ ہے اور جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر وقت عاجزانہ دعاؤں میں لگے رہواور خدا سے مانگ کر خدا کے قُرب کو حاصل کرو۔ہر چیز ہی اس سے مانگو جس چیز کو دنیا ناممکن کہے وہ بھی مانگو اور جس چیز کو دنیا اتنی آسان سمجھے کہ وہ کہے کہ نوکر سے بھی مجھے مدد لینے کی ضرورت نہیں وہ بھی مانگو خدا سے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی خدا سے مانگ، بڑی بنیا دی صداقت اس کے اندر بیان ہوئی ہے۔سنو! آج کا انسان ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس کے لئے خدا سے حفاظت اور امان کی استدعا کریں۔بڑے پریشان کن حالات پیدا ہو رہے ہیں۔کبھی سوچتا ہوں کہ انسانیت ہلاکت کے کنارے کھڑی ہوئی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اپنے رحم سے ان تمام طاقتوں کو ( جوخودانسان ہی نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیں اپنی ہلاکت کے لئے ) ان طاقتوں کو نا کام کرے اور باوجود انسان کی غفلتوں اور کوتاہیوں اور اس قسم کے جرم کے کہ وہ خدا سے دور ہو گئے اور خدا کا غضب انہوں نے اپنے پہ بھڑکا یا اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے کہ ان کے دل بدل جائیں۔ہم جب کوئی کام کرتے ہیں وقت لگتا ہے اس پر۔ایک درخت لگانا ہو تو سوچنا پڑتا ہے کہاں سے سب سے اچھا درخت لیا جائے۔پھر سوچنا پڑتا ہے کہ کیسے لایا جائے۔پھر سوچنا پڑتا ہے کہ کس موسم میں لایا جائے۔پھر سوچنا پڑتا ہے کہ کیسی زمین میں لگایا جائے۔پھر سوچنا پڑتا ہے کہ کس قسم کی اسے کھاد دی جائے، کتنے وقفے کے ساتھ اس کو پانی پلایا جائے۔پھر سوچنا پڑتا ہے کہ گرمی یا سردی میں اس کی حفاظت کی ضرورت ہے یا نہیں اور پھر اس کی پرورش کرنی پڑتی ہے۔پھر کوئی درخت تین چار سال، کوئی درخت آٹھ دس سال خدمت کروا کے، کوئی درخت ہیں تیس سال خدمت کروا کے پھل دیتا ہے۔ہمارا خدا ایسا نہیں۔اسے تو انتظار نہیں کرنا پڑتا۔قرآن کریم نے فرما یا وہ کہتا ہے کُن فیکون۔وہ چیز ہو جاتی ہے تو اس سے مانگو جو قبول کرتا ہے تو دیر نہیں لگتی۔جب اس نے دعا قبول کر لی کہا میں دوں گا تو پھر وہ دیر نہیں لگاتا۔وہ خسیس اور بخیل بھی نہیں ہے اتنا دیا لو ہے اتنا وہاب ہے عظیم بشارتیں دینے والا اور انہیں پوری کرنے والا ہے۔ہم