خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 450 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 450

۴۵۰ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۹ء خطبات ناصر جلد هشتم اگر صرف قانون کی حکومت ہوتی خدا تعالیٰ کی تو بجوں جوں زردی اور موت کی کیفیت پتے پر زیادہ ہوتی چلی جاتی اس کے گرنے کا امکان زیادہ ہوتا لیکن ایک بظاہر نسبتا زیادہ زندگی رکھنے والے پتے کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ درخت سے نیچے گر جا اور جوز رد پتا تھا جس کا زیادہ امکان تھا شام کے وقت کہ وہ گر جائے گا صبح کو وہ درخت پر لگا ہوا تھا اسی طرح، یہ درخت بھی ہمارے معلم ہیں، اسی واسطے ان کو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو آیات کے زمرہ میں رکھا ہے۔یہ بھی پوائنٹر (Pointer) ہیں۔یہ علامتیں ہیں جو ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں۔جو خدا تعالیٰ کی تعلیم اور قرآن کریم میں جو صفات اس کی بیان ہوئی ہیں ان کی حقیقوں کو واضح کرنے والی ہیں۔تو میں مالک کے متعلق خدا تعالیٰ کی جو مالک ہونے کی صفت ہے اس کے معنے بتا رہا ہوں کہ اس کی ملکیت ہے ہر چیز۔ہر چیز کا وہ خالق ہے۔کوئی چیز ایسی نہیں جو اس نے پیدا نہیں کی اور ہر چیز کا وہ مالک ہے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو کسی بت نے بنائی ہو یا امریکہ نے بنائی ہو یا کسی اور ملک نے۔ہر چیز اُس نے بنائی۔انسان نے جو بنایا اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق تصرف کر کے ، اس کی بنائی ہوئی قوت اور استعداد اور صلاحیت کے نتیجہ میں تصرف کر کے، انہوں نے ایک نئی شکل اس کو دے دی لیکن گھر سے تو کچھ نہ لائے سب کچھ خدا تعالیٰ کی عطا تھی۔اس کی قوتیں اور استعداد میں بھی اور وہ جو مادہ تھا جس کو اس نے استعمال کیا یا جو تھیوری تھی جو اس کے ذہن میں آئی وہ اور جو قانونِ قدرت جس کے عین مطابق اگر ہو تو حقیقت ہے ورنہ نہیں یہ سب کچھ خدا تعالیٰ نے بنایا۔تو وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے اور وہ تصرف کرنے پر قادر بھی ہے تصرف کرتا بھی ہے۔تصرف صرف قانو نا نہیں کرتا بلکہ تصرف بالا رادہ کرنے والا ہے۔تصرف بالا رادہ کے منبع سے معجزات پھوٹتے ہیں۔اس کا اپنا قانون ہے۔وہ بھی اس کے قانون کے خلاف نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے جو قوانین ہیں ان پر انسانی عقل حاوی نہیں ہوسکتی ، محیط نہیں ہوسکتی۔اور شہید کے معنی ہیں الَّذِی لَا يَغِيْبُ شَيْءٌ عَنْ عِلْیہ۔جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں جس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہر شے پر جس کا علم احاطہ کئے ہوئے ہے۔