خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 30 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 30

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۰ خطبہ جمعہ ۱۹ جنوری ۱۹۷۹ء لحاظ سے بھی ہر دو جہان کے لئے رحمت ہیں۔ہر دو جہان کے لئے اس طرح کہ دوسرے جہان کی تمام نعماء کا تعلق پہلے جہان کے مقبول اعمال سے ہے۔پس آپ پہلے جہان کے لئے اور دوسرے جہان کو مد نظر رکھتے ہوئے رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ ہیں اور آپ صفت رحمن کے مظہر ہیں جس کی طرف ان دو آیات میں سے پہلی آیت کے دو لفظ عَزِیز اور حریص اشارہ کر رہے ہیں اور مومنوں کے لئے آپ رحیم ہیں۔پس ایک عظیم شخصیت، ایک عظیم رسول ، ایک عظیم صاحب اخلاق، صاحب خُلق عظیم، ایک عظیم انسان ، اور انسانوں سے عظیم محبت کرنے والا تمہاری طرف آیا ہے۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم وہ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتا۔مخلوق کی تکلیف اسے سخت گراں گذرتی ہے اور اسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ اے انسا نو ! تمہیں بڑے بڑے منافع پہنچیں۔حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ عظیم رسول ، خاتم الانبیاء، جوتعلیم لے کر آیا ہے وہ مخلوق کے ہر حصہ کے لئے رحمت ہے۔وہ عالمین کے لئے رحمت ہے۔وہ رحمت ہے اشجار کے لئے بھی اور پتھروں کے لئے بھی اور پانی کے لئے بھی اور معدنیات کے لئے بھی اور حیوانات کے لئے بھی وغیرہ وغیرہ۔انسان کے علاوہ جو بھی مخلوق ہمیں اس دنیا میں نظر آتی ہے ان کے حقوق بھی اسلامی تعلیم نے بتائے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کی ہے۔اسلام نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہر چیز کا کیا حق ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ اسے ملنا چاہیے۔اصولی طور پر یہ بتایا کہ ہر چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے اس لئے کسی چیز کو بھی ضائع نہیں کرنا یہاں تک کہ کھانے کے ایک لقمے کو بھی ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔یہ بڑی حسین تعلیم ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی رکابی میں اتنا ہی ڈالو جتنا تم کھا سکو۔اس کے برعکس شیطانی وساوس انسان کو دوسری انتہا تک لے گئے۔چنانچہ میں نے بعض جگہ پڑھا ہے کہ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ جو ان کی رکابیوں میں بچ جاتا ہے وہ دنیا کی بڑی بڑی قوموں کو سیر کرنے والا اور کفایت کرنے والا ہے یعنی وہ اتنا ضیاع بھی کرتے ہیں اور پھر اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔مگر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی ہے۔اس کی فلاح اور بہبود کے لئے پیدا کی ہے، اسے نفع