خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 443 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 443

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۴۳ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۹ء اور عزم نہ ہو تو کچھ نہیں ہوگا۔میں نے کہا ہے کچھ ہو نہیں سکتا۔اب میں کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا تو ان کو صحت بھی دی خدا نے۔عزم بھی دیا خدا نے۔تو صحت جسمانی دنیوی حسنہ ہے اس دنیا سے جسم کا تعلق ہے۔خدا کہتا ہے مجھ سے مانگو صحت اس لئے نہیں کہ عیاشی میں اسے ضائع کرو گے اس لئے مانگو کہ میری راہ میں اس کو خرچ کرو گے اور میرے پیار کو حاصل کرو گے۔ہر د نیوی نعمت کی ایسی ہی مثال ہے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔صحت کے علاوہ عزت ہے، دنیوی مال و دولت ہے۔دنیا کی اولاد ہے خاندان ہیں، عافیت کی فضا ہے وغیرہ وغیرہ۔ہر چیز جو ہے خدا کہتا ہے مجھ سے مانگو لیکن مجھ سے لے کر میری خوشنودی کے لئے میری بتائی ہوئی راہ پر اسے خرچ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی تفسیر یہ کی ہے کہ انسانی تجربہ بتاتا ہے کہ جہنم اس دنیا کی بھی ہے۔جہنم وہ بھی ہے جو مرنے کے بعد ہے (اللہ محفوظ رکھے )۔خدا تعالیٰ ان پر اپنے قہر کی تجلی نازل کرنا چاہے گا جہنم میں بھیج دے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ انسان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس ور لی زندگی کے ساتھ طرح طرح کے عذاب اور تکلیفیں لگی ہوئی ہیں۔خوف کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔خون خرابہ ، لڑائی ہو جاتی ہے۔یہاں میں بعض دفعہ کھیتوں کے کنارے، زمیندار آدھے مرلے پر بھی لڑ مرتے ہیں۔فقر و فاقہ کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک غربت ہے جو ورثہ میں ملتی اور آگے اگلی نسل کو ورثہ میں چھوڑی جاتی ہے۔ایک غربت ہے جو ایک امیر آدمی دیوالیہ ہو جاتا ہے اور وہ جو لاکھوں کا مالک ہوتا ہے وہ چند لقموں کے کھانے کی بھی توفیق نہیں رکھتا، مانگنا پڑتا ہے اس کو ، بیماریاں ہیں، کوشش انسان کرتا ہے، اس کے مختلف اور سینکڑوں میدان ہیں، ناکامیاں بھی سینکڑوں ہیں۔ذلت و ادبار کے اندیشے ہیں۔ہزار قسم کے دوسرے دکھ ہیں۔اولاد بیوی وغیرہ کے متعلق تکلیف ہے۔بچہ بیمار ہو جائے رات کا چین اُٹھ جاتا ہے۔بیوی کے ساتھ ناراضگی پیدا ہو جائے وہ پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔پھر رشتے داریاں ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں اُلجھن پیدا ہو جاتی ہے۔کبھی ورثہ کی کبھی یہ کہ مجھ سے پیار کا اتنا سلوک نہیں