خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 442
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۴۲ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۹ء اُخروی حسنہ جو ہے وہ ان درختوں کے پھل ہیں، اس لئے جب یہ شکل بنی تو ضمناً یہ بات بھی ہمارے سامنے آگئی کہ اسلام جو ہے وہ رہبانیت ان معنی میں کہ دنیا کی بہت سی جائز چیزوں کو بھی چھوڑ دینا، اس کو جائز نہیں سمجھتا۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ دنیا کو چھوڑ اور میرے پاس آ۔اسلام یہ کہتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز کا صحیح استعمال کر اور میرے پاس آ۔اگر چھوڑے گا ناشکرا ہوگا اور خدا کے نزدیک ناشکرا اور کافرہم معنے لفظ ہیں اور اگر دنیا کو چھوڑے گا نہیں میرے بتائے ہوئے طریق پر میری نعمتوں کو استعمال نہیں کرے گا ، میری عطا کردہ قوتوں کو میرے بتائے ہوئے طریق پر خرچ نہیں کرے گا تو جنت سے نکال دوں گا تجھے۔دنیا کو چھوڑ نا نہیں ، دنیا میں رہ کر خدا کا بننا ہے، خدا کا ہو کر خدا کے لیے دنیوی زندگی گزارنی ہے، یہ ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً دنیا میں جو حسنہ ملتی ہیں جو چیزیں جو نعماء ملتی ہیں وہ سب اُخروی حسنہ کے حصول کا سامان پیدا کرنے والی ہیں۔موٹی مثال ہے صحت جسمانی۔صحت کا ہونا خدا تعالی کا بہت بڑا انعام ہے اور ایک صحت مند بد معاشیوں میں بھی اپنی صحت خراب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتا ہے لیکن خدا کا صحت مند بندہ خدا کے حضورا اپنی صحت کے نتیجہ میں اینا رو اخلاص کے وہ کارنامے دکھاتا ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔مثلاً صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو کسریٰ اور قیصر سے جنگیں ہوئیں ان میں ( تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے ) اتنا فرق ہوتا تھا تعداد میں۔مسلمانوں کی تعداد اس قدر کم اور کسریٰ کی حکومت جو بہت بڑی ایمپائر تھی اس وقت کی دنیا میں اور قیصر کی حکومت جو بہت بڑی ایمپائر تھی اس وقت کی دنیا میں ان کی فوجیں پانچ گنا سات گنا بعض دفعہ آٹھ گنا زیادہ ہوتی تھیں۔اگر پانچ گنا زیادہ بھی ہوں اور ساڑھے سات گھنٹے لڑائی ہو دن میں تو ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد نئی تازہ دم فوج مسلمان کے سامنے آجائے گی اور ایک مسلمان ساڑھے سات گھنٹے لڑتا رہے گا ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد تازہ دم فوج میں سے کسریٰ اور قیصر کی فوجوں کا ہر سپاہی صرف ڈیڑھ گھنٹہ لڑے گا۔مسلمان سپاہی ساڑھے سات گھنٹے ان کے مقابلہ میں لڑ رہا تھا۔یہ شکل بنی لڑائی میں۔میں نے بڑا سوچا اور بڑا ہی حیران ہوا ہوں کہ کس قدر صحت اور عزم ایک مسلمان کو خدا تعالیٰ نے دیا۔اگر عزم ہو اور صحت نہ ہو تو کچھ نہیں ہوسکتا۔اگر صحت ہو