خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 441

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۴۱ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۹ء تو بعض لوگ جو ایک حد تک رفعتیں حاصل کرتے ہیں وہاں سے گرتے ہیں زمین پر اور ریزہ ریزہ کر دیئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے۔تو فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دور لے جانے والی ہیں وہ اس سے نجات پاوے۔دو چیزوں کی اپنی خوشحالی کے لئے انسانی نفس کو ضرورت ہے۔مصائب اور شدائد اور ابتلا ان سے امن میں رہے اور فسق و فجور اور روحانی بیماریوں سے نجات اسے حاصل ہو۔پس دوسری آیت میں اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً جو کہا گیا ہے دنیا کا حسنہ یعنی دنیا سے تعلق رکھنے والی خدا کی نگاہ میں جو اچھی چیز انسان کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی، انسان ہر ایک بلا اور گندی زیست اور ذلت سے محفوظ رہے یعنی خدا ہر ایک پہلو سے، دنیا کا ہو یا آخرت کا ، اسے ہر بلا سے محفوظ رکھے اور جس رنگ میں خداد یکھنا چاہتا ہے انسان کو اور اس کے اعمال کو اس رنگ میں اسے اعمالِ صالحہ بجالانے کی توفیق عطا ہو۔یہ ہے فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے معنی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں اور فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً کے معنے آپ نے یہ کئے کہ دنیوی حسنہ کا اس طور پر استعمال کہ جس کے نتیجہ میں اُخروی حسنات انسان کو ملیں اور آپ فرماتے ہیں آخرت کا جو پہلو ہے وہ دنیا کی حسنہ کا شمرہ ہے۔اس تمثیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کی حسنات کو ایک درخت کی شکل میں پیش کیا اور اُخروی زندگی کی حسنات کو ان درختوں کے پھل کی حیثیت سے پیش کیا تو جو خدا کا مومن بندہ اور معرفتِ الہی رکھنے والا ہے وہ دعا کرتا ہے رہنا ! اے ہمارے رب! تو بہ کرتے۔ہوئے تیری طرف واپس لوٹتا ہوں ، تیرے غیر کو کچھ چیز نہیں سمجھوں گا کامل بھروسہ تجھ پر رکھوں گا، ساری امیدیں تجھ سے وابستہ رہیں گی میری، مجھے جو اس دنیا میں تو نے ( جیسا کہ قرآن کریم نے اعلان کیا ) ان گنت نعماء سے نوازا ہے ان کے استعمال کی صحیح تو فیق دے۔جس کے نتیجہ میں میری قوتیں اور استعداد میں صحیح نشو و نما حاصل کر کے ایسے اعمالِ صالحہ بجالانے والی ہوں جو تجھے پسندیدہ ہوں جن پر تو مجھے انعام بھی دے، مقبول اعمالِ صالحہ کی مجھے توفیق دے اور اس کی شکل یہ بن جاتی ہے کہ اگر دنیا کے اعمال اور دنیا کی جدو جہد اور مجاہدہ حسنہ جسے کہا گیا ہے وہ درخت ہے تو