خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 440

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۴۰ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۹ء رنا کہا گیا ہے۔پہلی آیت میں جس کا تعلق مانگنے والوں کا تعلق، وہ ندا کر نے والوں کا تعلق صرف اس دنیا اور اس دنیا کی زندگی کے ساتھ ہے لیکن یہ جو دوسرا گروہ ہے وہ تو رب حقیقی کو ماننے والا ہے اور غیر اللہ سے کامل طور پر قطع تعلق کرنے کے بعد جو حقیقی مولا اور رب ہے اس کی طرف وہ رجوع کرنے والا ہے اور اسی کے سامنے سر نیاز کو جھکانے والا ہے اور اس کے علاوہ ہر شے کو مرے ہوئے کیڑے جتنی بھی وقعت نہیں دیتا۔تو جو ربنا یہاں دو آیتوں میں ہے ان کے معانی میں فرق ہے ایک معنی وہ ہیں جو ایک دنیا دار، دماغ کے ذہن میں ہیں اور جو حقیقی معنے نہیں ، جس میں خدا کی خوشنودی کے حصول کے لئے ربنا کی ندا نہیں کی جاتی۔اور ایک دوسرے معنی ہیں جو ایک عارف کی ندا ہے، جو خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت رکھنے والے کی دعا ہے جو خدا کے علاوہ ہر شے سے بیزار ہونے والے کی دعا ہے جو ہر چیز اپنے رب سے پانے کی امید رکھنے والے کی دعا ہے اور وہ دعا یہ نہیں کہ صرف یہ دنیا مجھے چاہیے۔دعا یہ ہے کہ اے خدا! اس دنیا کی وہ چیز مجھے نہ دے جو آخرت کی نعماء سے مجھے محروم کرنے والی ہو۔صرف وہ نعماء اس دنیا کی مجھے دے جو بتدریج تیری ربوبیت کے سایہ میں تیری بہتر سے بہتر نعماء تک لے جانے والی اور تیرے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے میں میری مد اور معاون ہونے والی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں آنے والے مصائب، شدائد، ابتلا وغیرہ جو ہیں ان سے وہ امن میں رہے۔( یہ بیان میں اپنے الفاظ میں کر رہا ہوں ) اور دوسرے یہ کہ فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہیں، دنیوی نعمتوں کا غلط استعمال دنیوی نعمتوں کا مہلک استعمال جن کے نتیجہ میں جسمانی بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں جن کے نتیجہ میں ذہنی تنزل بھی پیدا ہوتا ہے، جن کے نتیجہ میں اخلاق بھی جل کے راکھ بن جاتے ہیں، جن کے نتیجہ میں وہ روحانی طاقتیں جو اس لئے انسان کو دی گئی تھیں کہ اللہ تعالیٰ زمین سے اٹھا کر اسے آسمانوں پر لے جائے وہ ضائع ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ