خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 434 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 434

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۳۴ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۹ء ہی نہ ہوں اور اگر سرزد ہو جائیں تو ان کے بدنتائج سے ہمارا رب ہمیں بچالے۔اس مغفرت کے لئے دعا کرنا۔سو یہ دعا کے دو حصے ہیں۔نیکیوں کی توفیق پانے کے لئے اعمالِ صالحہ مقبولہ کی توفیق پانے کے لئے خدا کے فضل اور اس کی رحمت کو طلب کرنا اور اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں اور بدیوں اور بداعمالیوں اور بھول چوک سے بچنے کے لئے یا ان کے بدنتائج سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کی مغفرت کا طالب ہونا اس کے بغیر وہ عمل صالح جو روکھا پھیکا انسان کا اپنا عمل صالح ہے۔جس میں خدا تعالیٰ کا فضل شامل نہیں اور خدا تعالیٰ نے جسے قبول نہیں کیا ایک کوڑی قیمت نہیں رکھتا نہ خدا کے نزدیک نہ انسانی فطرت کے نزدیک کیونکہ جس نے جزا دینی ہے اس کو اگر وہ عمل پسند آئے گا تبھی وہ اس کا بدلہ احسن رنگ میں مقبول اعمال کے متعلق جو وعدے دیئے گئے ہیں اس طور پر اپنے بندوں کو دے گا اور جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے یوم آخرت پر پختہ ایمان رکھتا ہے جیسا کہ اسلام نے تعلیم دی اور اس کے مقبول اعمالِ صالحہ ہیں اس کے متعلق خدا نے کہا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کہ اللہ تعالیٰ کے ایمان کو قبول کر لینے کی علامت یہ ہے یعنی خدا تعالیٰ نے جو اس کے ایمان کو اور اس کے دلی عقیدہ کو اور اس کے اعمال صالحہ کو قبول کر لیا اس کی علامت یہ ہے کہ سچے مومنوں کو نہ تو آئندہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ وہ سابق کوتاہیوں کے بدنتائج کا شکار ہوتے ہیں تو جب ان کی اسی زندگی کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں جب یہ حالت ہو تو اس سے پتا لگتا ہے کہ ایمان سچا ہے۔دلی عقیدہ صادق اور اعمالِ صالحہ خدا کو مقبول ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور ہم سب کو جو انصار اللہ سے تعلق رکھنے والے ہیں اپنی عمر کے لحاظ سے انصار کی تنظیم میں ہیں۔ہم سب کو ان تین حقیقوں پر قائم ہوکراپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توفیق عطا کرے تاکہ ہم ان کے لئے جو عمر میں ہم سے چھوٹے یا علم میں اتنے پختہ نہیں یا جو تجربہ میں کم ہیں یا بعد میں آنے والی نسلیں ہیں ان کے لئے نیک نمونہ بنیں۔بدنمونہ نہ بنیں تا کہ ہر نسل اپنے دور میں سے گزر کے جب انصار اللہ میں شامل ہو تو آنے والی نوجوان نسلوں کے لئے وہ نمونہ بنتی چلی جائے تاکہ وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے