خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 433 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 433

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۳۳ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۹ء اسے بیان کیا گیا ہے۔تو جب جزا و سزا ہے۔یومِ آخرت اليَومِ الآخِرِ میں قیامت کے دن تو اس کے لئے ہمیں عمل کرنا چاہیے۔وَ عَمِلَ صَالِحًا تیسرا منطقی نتیجہ اگلا یہ نکلتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔اس معرفت سے ہمیں پتا لگا کہ ہم بندگی کے لئے ، عبد بننے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کا کوئی فعل اور کوئی خلق، پیدائش اور کوئی چیز جو اس نے پیدا کی ہے وہ باطل نہیں ہے۔ہماری زندگی بھی باطل نہیں ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قیامت کا دن ہے ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔یہ اپنا ایک لمبا مضمون ہے حضرت مسیح موعود کی کتب میں تفصیل سے آیا ہے۔دوستوں کو ان کتب کو بھی پڑھنا چاہیے تا کہ قیامت اور وَالْيَوْمِ الْآخِر کی جو حقیقت ہے وہ بھی بہر حال ہمارے دماغ میں حاضر رہے۔تو پھر سوال انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ میں کیسے قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کروں تو فرمایا وَ عَمِلَ صَالِحًا عمل صالحہ کرے۔قرآن کریم میں اعمال صالحہ کی تعریف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق ، خدا تعالیٰ کی نواہی اور خدا تعالیٰ نے جو اوامر بتائے ہیں ان کے مطابق موقع اور حل پر عمل صالح کرے یعنی موقع اور محل کے مطابق عمل کرے۔یہ عمل صالح ہے لیکن انسانی کوشش جب انسان اپنے متعلق غور کرتا ہے۔بڑی حقیر ہے اور کوئی شخص اپنے ہوش وحواس میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں اپنے عمل سے اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکتا ہوں العیاذ باللہ اس لئے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) تو عمل صالح اچھا نتیجہ کسی شخص کے لئے صرف اس حالت میں پیدا کر سکتا ہے جب وہ عمل مقبول ہو۔خدا تعالیٰ اسے قبول کرے تب اس کو جزا دے گا نا۔اس لئے جہاں تک انسانی کوشش کا سوال ہے عمل صالح کا۔اس کی بنیادی حقیقت دعا ہے یعنی خدا سے اس کے فضل کو مانگنا تا کہ انسان اس کے قرب کی راہوں میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے اور دعا ہے اس کی مغفرت کے لئے التجا کرنا اور چیخ و پکار کرنا تا کہ جو باتیں ، جو اعمال اس کو نا پسندیدہ ہیں اور جو اس سے دور لے جانے والے ہیں۔وہ اول سرزد