خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 424
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۲۴ خطبہ جمعہ ۱۹ را کتوبر ۱۹۷۹ء انسانی زندگی کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مولا بس۔کہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے اور خدا سے ہی سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے اور وہ لوگ جو خدا کی طرف نہیں جھکتے اور جنہوں نے ہزاروں بت اپنے صحن سینہ میں یا اپنے ماحول میں بنارکھے ہیں حقیقی کامیابیاں انہیں نصیب نہیں ہوتیں اس لئے وہ جو کائنات کی بنیادی حقیقت ہے اس بنیادی حقیقت سے ایک حقیقی تعلق قائم ہو جانا ضروری ہے انسان کی زندگی میں۔اگر وہ خدا کی نگاہ میں کامیاب ہونا چاہتا ہے اور فلاح حاصل کرنا چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ نے سورہ مومن میں فرمایا : - وَقَالَ رَبكُمُ ادْعُونِ خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ دعا کرو مجھ سے، استجب لکم میں تمہاری دعا قبول کروں گا اگر وہ شرائط کے ساتھ ہو۔قرآن کریم نے دوسری جگہ شرائط بیان کی ہیں وہ Understood ہے ظاہر ہے وہ بات اِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادتي جو انسانوں میں سے میری عبادت تکبر کے نتیجہ میں نہیں کرتے یا یوں کہنا چاہیے کہ تکبر کی وجہ سے میری عبادت کا حق ادا نہیں کرتے۔سَید خُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ (المؤمن : ٦١ ) وه رُسوا کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی آگ کے اندر ان کو ڈالا جائے گا۔یہاں حکم دیا گیا ہے دعا کا قالَ رَبِّكُمُ ادْعُونِی۔تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھ سے ہمیشہ دعا کرو۔تمہارا رب کہتا ہے کہ ہر چیز کے لئے مجھ سے مدد مانگو۔تمہارا رب کہتا ہے کہ ہر برائی سے بچنے کے لئے میرے فضل کی تلاش کرو۔تمہارا رب کہتا ہے کہ شیطان کے حملوں سے حفاظت چاہتے ہو تو دعاؤں کے ذریعہ میری پناہ میں آنے کی کوشش کرو۔خدا کہتا ہے کہ اگر دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہو، حقیقی ترقی ایسی ترقی جس میں کوئی گندگی شامل نہ ہو تو میری طرف رجوع کرو۔خدا کہتا ہے کہ اپنی زندگی کے ہر کام میں میری طرف متوجہ ہو۔میرے سامنے جھکو، مجھ سے مانگو جو شرائطِ دعا ہیں ان کو پورا کرو اَسْتَجِبْ لَكُمْ میں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا اور جو تم مانگو گے وہ تمہیں دیا جائے گا اور اگر انسانوں میں سے کوئی میرے اس حکم کو مانے گا نہیں اور باوجود اس کے کہ میں نے کہا اُدعُونِ مجھ سے مانگو اور مجھ سے پاؤ۔باوجود اس کے غیر اللہ کی طرف منہ پھیریں گے غیر اللہ پر امیدیں رکھیں گے تو کامل تو گل مجھ پر نہیں ہوگا۔بھروسہ ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری کمزور طاقتوں اور لاشے محض پر ہوگا۔سفارشوں پر، رشوتوں پر ، لوٹ مار پر، ہزار قسم کے عیوب ہیں جن کو بعض بیوقوف ترقی کا