خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 413 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 413

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۱۳ خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۷۹ء نے قرآن عظیم میں بیان کیا ہے اس کے وہ حقدار بن جائیں گے محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔تیسرے ہمیں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے۔اگر کوئی حکم دینے والی ہستی ایسی ہو کہ حکم دے اور وعدہ بھی کرے لیکن ایفائے عہد کی طاقت نہ رکھتی ہو تو انسان کو خوف پیدا ہوتا ہے کہ میں جو احکام ہیں ان کو بجا بھی لاؤں لیکن فائدہ یقینی نہیں۔تو یہاں یہ تسلی دلائی گئی ہے کہ اگر دنیا دار کوئی وعدہ کرے تو ہزار بدظنیاں ہو سکتی ہیں۔دنیا دار اگر کوئی وعدہ کرے تو ہزار امکان اس بات کا ہو سکتا ہے کہ خواہش کے باوجود وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے۔ہزار حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ پہلے طاقت رکھتا تھا وعدہ پورا کرنے کی اب اس سے وہ طاقت چھین لی گئی۔ہزار امکان ایسا ہے کہ پہلے اس کا دل خدا کی طرف جھکا ہوا تھا اور اب شیطان کے قبضے میں آچکا اور اس لئے وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا۔خدا تعالیٰ پر تو اس قسم کی کوئی بدظنی کی ہی نہیں جا سکتی۔الا إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ جو خدا کا وعدہ ہے وہ بہر حال پورا ہوکر رہے گا لیکن جیسا کہ ہمیں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے متعلق یہ اصولی بات بتائی کہ خدا کا وعدہ اس رنگ میں اور اس وقت پورا ہو گا جس رنگ میں اور جس وقت وہ پورا کرنا چاہے گا۔انسان اللہ تعالیٰ کو ڈکٹیٹ (Dictate) نہیں کراسکتا۔زور بازو سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اپنا وعدہ اس شکل میں اور اس وقت پورا کر۔بہت سی ایسی تو میں ہمیں تاریخ انسانی میں نظر آتی ہیں جن سے کئے گے وعدے صدیوں بعد اسی طرح پورے ہوئے جس طرح وعدے کئے گئے تھے لیکن صدیاں انہوں نے انتظار میں گزاریں۔ایسی قوم بھی ہمیں نظر آتی ہے کہ وعدہ چار سال کے بعد پورا ہو گیا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ جب میں پین میں گیا تو بڑی بے چینی اور پریشانی اس ملک کے متعلق ہوئی کہ سات سو سال مسلمانوں نے وہاں حکومت کی اور جب وہ مغلوب ہوئے تو مخالفین نے ایک بھی مسلمان باقی نہیں چھوڑا۔بہت دعائیں کرنے کی ایک رات توفیق ملی کہ خدا یا تیری رحمت میں رہے صدیوں ، تیری رحمت سے محروم ہوئے صدیاں گزرگئیں۔پھر ان کے لئے اپنی رحمت کے سامان پیدا کر۔