خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 402
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۰۲ خطبه جمعه ٫۵اکتوبر ۱۹۷۹ء اور مطہر ، خدا کی نگاہ میں ہو اس کی جزا ان کو نہیں ملے گی ، اس پاک اور مطہر کی جزا جو قرآن کریم میں بیان کی ہے جس کا ابھی ہم ذکر سنیں گے بلکہ عذاب الیم ان کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ b فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا - اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ اَنْفُسَهُمْ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا يظْلَمُونَ فَتِيلًا - (النساء : ۵۰،۴۹) اللہ اس بات کو ہرگز معاف نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور جو گناہ اس سے ادنی ہوا سے جس کے حق میں چاہے گا معاف کر دے گا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ( رحمتی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) فرمایا گیا ہے ) ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ایک دن میں سوچ میں پڑ گیا کہ مشرک کو کلیۂ معاف نہ کرنا بھی خدا تعالیٰ کی اس رحمت کے خلاف نظر آتا ہے میرے جیسے عاجز انسان کو۔تو مجھے یہ سمجھ آئی کہ جو شرک کے علاوہ دوسرے گناہ ہیں خدا تعالیٰ کلیۂ اگر چاہے، اس کا فضل اور رحمت نازل ہو تو معاف کر دیتا ہے لیکن شرک کو کلیۂ معاف نہیں کرتا عذاب میں تخفیف کر دیتا ہے۔اس کی سزا کے متعلق یہ کہیں اعلان نہیں کیا قرآن کریم میں کہ میں مشرک کی جو سزا ہے اس میں تخفیف نہیں کروں گا۔یہ کہا ہے کہ شرک کا کوئی گناہ معاف نہیں ہوگا۔سزا ضرور ملے گی۔اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا ہو تو سمجھو کہ اس نے بہت بڑی بدی کی بات بنائی اور افتر ا کیا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔الم ترَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ أَنْفُسَهُمْ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ایسے مومن جو ساتھ شرک میں بھی مبتلا ہیں وہ تزکیۂ نفس کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اس دنیا میں اور یہ نہیں سمجھتے کہ بَلِ اللهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ اصل تزکیۂ نفس اللہ سے ملتا ہے اور وہی حقیقہ تزکیہ نفس ہے جو خدا کی نگاہ میں تزکیہ نفس ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کو میں منشی مطہر نہیں ٹھہراؤں گا بلکہ ان کو عذاب دوں گا جیسے پہلے بھی ذکر ہے لیکن وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا عذاب ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے، خدا تعالیٰ کو ناراض کر دینے کی وجہ سے ملے گا۔ان پر ذرہ برابر