خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 400 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 400

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۰۰ خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۷۹ء ساری رات خدا کے حضور بظاہر دعائیں کرنے کے باوجود خدا کا پیارا نہیں بنتا۔مالی قربانیاں دینے کے بعد ، وقت کی قربانی دینے کے بعد نفس کی قربانی دینے کے بعد، عزت کی قربانی دینے کے بعد خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ ان قربانیوں کو قبول نہ کرے۔اس سلسلہ میں حکم قرآن کریم میں یہ بیان ہوا ہے کہ لا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) خود اپنے نفس کو اور ایک دوسرے کو ( یہ دونوں مفہوم اس میں آتے ہیں ) پاک اور مطہر نہ قرار دیا کرو۔مختلف آیات میں یہ مضمون اور اس کے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں۔چند ایک آیات آج کے خطبہ کے لئے میں نے منتخب کی ہیں۔میں کوشش کروں گا کہ مختصر خطبہ دوں کہاں تک کامیاب ہوتا ہوں اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔سورہ حجم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ۳۳) دنیا میں خدا کے علاوہ کوئی وجود تمہیں اتنا نہیں جانتا جتنا خدا جانتا ہے۔سب سے زیادہ تمہیں اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے۔آگے دلیل دی کیونکہ اسلام حکمت سے پُر مذہب ہے۔اذُ انْشَاكُم مِّنَ الْأَرْضِ (النجم : ۳۳) اس وقت سے جانتا ہے کہ جب اس نے زمین کے ذروں کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہارے وجود کا حصہ بنیں۔ابھی ماں کے پیٹ میں تم نہیں گئے لیکن زمین کے ذرے کچھ ایسے پیدا کئے گئے تھے جو تمہارے جسم کا حصہ بنے۔ہر فردِ واحد مختلف مجموعہ ہے ذرات کا۔وہ ذرات اس کے جسم کا حصہ بنتے ہیں۔إِذْ انْشَاكُم مِّنَ الْأَرْضِ جب تم کو اس نے زمین سے پیدا کیا اس وقت سے وہ تمہیں جانتا ہے تو یہ ذرات ہیں جو فلاں فرد واحد کے جسم کا حصہ بنیں گے۔وہ اس کا جسم بنا دیں گے۔وَإِذْ انْتُمْ آجِنَّةُ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ (النجم : (۳۳) اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں ابھی پوشیدہ تھے۔پیدائش بھی تمہاری نہیں ہوئی تھی۔خدا تعالیٰ اس وقت بھی جانتا تھا۔تم اس وقت اپنے آپ کو جانتے تھے؟ نہیں، کوئی شخص یہ دعوی نہیں کر سکتا اپنے ہوش و حواس میں کہ میں اپنے نس سے واقف تھا اس وقت جب میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا۔پیدائش کے بعد کے واقعات بھی نہیں جانتا۔بعض بڑے ذہین بچے ہیں ان کو بہت بچپن کی باتیں یاد ہیں لیکن پیدائش کے بعد