خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 24
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۴ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء کہ میرا کام حساب لینا ہے، خدا کا کام حساب لینا نہیں ہے۔اس کے متعلق تفسیر رازی میں ہے۔کہتے ہیں کہ سَوَاءٌ أَرَيْنَاكَ ذَلِكَ أَوْ تَوَفَّيْنَاكَ قَبْلَ ظهوره که جوانذاری پیشگوئیاں ہیں وہ تیرے سامنے ظاہر ہو جائیں اور عذاب آجائے یا تیری وفات کے بعد ہوں پس ایک ہی بات ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔انذاری پیشگوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں کرتے اور نہ بشارت محمدصلی اللہ علیہ وسلم دیتے ہیں یہ تو خدا تعالیٰ کا کام ہے۔یہ ذمہ داری کہ کسی سچے مومن، مخلص، ایثار پیشہ کے حق میں بشارت دیں، یہ محد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہیں ہے ( یہ اچھی طرح سن لیں) اور یہ کہنا کہ جو انکار کر رہا ہے، جو مخالفت کر رہا ہے، جو شرک کر رہا ہے، جو فسق میں پھنسا ہوا ہے، جو خدا سے دور چلا گیا ، جس نے خدا کو ناراض کر لیا ، اس کو یہ عذاب پہنچے گا ، یہ انذاری پیشگوئی کرنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہیں۔یہ کسی بھی بندہ کا کام نہیں ہے۔یہ خدا کا کام ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے پیشگوئی کی ، ہم اپنے وقت پر پوری کر دیں گے، تیرے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں فالواجب عَلَيْكَ جس چیز کا تیرے ساتھ تعلق ہے اور تجھ پر ہم نے فرض کیا ہے وہ ہے تبلیغ احکامِ اللهِ تَعَالَى وَ آدَائُ أَمَانَتِهِ وَ رِسَالَتِهِ کہ خدا تعالیٰ کے احکام کو دنیا تک پہنچانا اور جو امانت خدا تعالیٰ نے تیرے سپرد کی ہے اور اپنی رسالت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت رسالت عظمیٰ ہے، آپ سب رسولوں سے افضل ہیں ) اس رسالت کا لوگوں تک پہنچانا، اس کی تبلیغ کرنا یہ آپ کا کام ہے۔وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔یہ ہے امام رازی کی تفسیر - روح البیان میں اس کو مزید کھول کر بیان کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تبلیغ ، بلاغ پہنچانا جو ہے عَلَيْكَ الْبَلغُ أَنْ تَبْلِيخُ الرِّسَالَةِ وَ اَدَاءُ الْاِمَانَةِ لَا غَيْرَ کہ صرف یہ ہے کام۔اس کے علاوہ اور کوئی فرض ہی نہیں رسول کا اور نہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رسالت کی جو امانت سپرد کی گئی ہے (امانت مختصراً آپ سمجھ لیں کہ قرآن کریم کی ساری شریعت جو ہمارے ہاتھ میں قرآن دیا گیا ، وہ امانت ہے ) اس کو پہنچانے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو فرض تھا یعنی قرآن کریم کو مکمل اور کامل شریعت بغیر ایک لفظ کی تبدیلی کے بنی نوع انسان کے ہاتھ میں دینے کا فرض وہ