خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 331
خطبات ناصر جلد هشتم ٣٣١ خطبه جمعه ۱۰ /اگست ۱۹۷۹ء گے ( بڑا وسیع مضمون ہے تقویٰ کے اندر ) پس فرمایا اگر مومن تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتا چلا جائے گا تو اس آیت میں چار وعدے اللہ تعالیٰ کرتا ہے وُعِدَ الْمُتَّقُونَ چھ وعدے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو متقیوں کو اس آیت میں دیئے گئے ہیں۔- پہلا وعدہ ہے فِيهَا انْهرُ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ اسِن اس کے متعلق دوسری آیت کے حوالے کی ضرورت ذہنی طور پر ہے۔وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَى (الانبیاء : ۳۱) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو زندہ کیا ہے تو ہماری زندگی جو ہے اس دنیا کی۔اس کا انحصار بہت حد تک پانی پہ ہے لیکن جو ہمارے جسم کا پانی ہے اس میں یہ خاصیت نہیں کہ کوئی انفیکشن اس کے اندر نہ آجائے۔بیماری کے جراثیم یا وائرس اس کے اندر نہ پلنے شروع ہو جائیں تو وہی پانی جو ہمارے لئے زندگی کا موجب بنتا ہے وہی ایک وقت میں ہماری موت کا موجب بن جاتا ہے جب اس میں انفیکشن پیدا ہو جائے۔جب سڑ جائے پانی ہمارے جسم کا تو موت ہے ہماری۔تو یہاں ایسی جنت کا وعدہ دیا گیا ہے جس کا پانی جو زندگی کی بنیاد بنتا ہے ، وہ سڑے گا نہیں اور اپنی یہ خصوصیت کہ وہ زندگی کا موجب ہے وہ کبھی نہیں کھوئے گا یعنی جو جنتی ہیں ان کو ایسا پانی و،،، ملے گا کہ جو ابدی زندگی کا موجب ہوگا۔وہ پانی پیتے رہیں گے اور ان کی زندگی قائم رہے گی۔وَانْهرُ مِنْ تَبَن لَمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ پہلے تھا سوال زندگی قائم رہنے کا لیکن زندگی قائم رہتے ہوئے بھی انسان کے قومی ہیں۔ان میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔انحطاط پیدا ہو جاتا ہے تو اس کا تعلق یہاں لبن“ کے ساتھ ہے تو ایسی نہریں ہوں گی دودھ کی جن کا مزہ بدلے گا نہیں۔وہ پھٹ نہیں جائے گا۔وہ اپنی خاصیت کو اور کیفیت کو کھو نہیں بیٹھے گا اور اس کے نتیجہ میں جنت میں رہنے والے جسم کی جو طاقتیں ہیں وہ اپنے جو بن پہ، اپنے عروج پہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ ان کو ایسا دودھ ملے گا لَمْ يَتَخَيَّرُ طَعُبُة - تیسرے فرما یاوَ اَنْهرُ مِنْ خَيْرٍ لذَةٍ لِلشَّرِبِينَ یہ (خمر) وہ نہیں جو حرام شراب ہے یہ وہ نہیں ہے کیونکہ حرام خمر کے ساتھ خمار بھی ہے۔اس کے ساتھ ذہنی قوی کا عارضی یا مستقل طور پر کمزور ہو جانا بھی ہے۔بہت ساری برائیاں اس کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔یہ میرا مضمون نہیں ہے۔