خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 329 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 329

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۲۹ خطبه جمعه ۱۰ راگست ۱۹۷۹ء ماننے کا اس نے حکم دیا ہے ہم ایمان لاتے ہیں کہ ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ وہ تعلق پیدا کریں جو خدا چاہتا ہے کہ پیدا کریں۔مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور پیار کا تعلق۔مثلاً بے خوف و خطر یہ اعلان کرنا کہ خدا ایک ہے اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی ، اور لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری: ۱۲) اس جیسی ہستی اور کوئی نہیں اور وہ بڑا پیار کرنے والا ہے۔وہ بڑا دیالو ہے اور اسے کسی کی احتیاج نہیں اور ہر غیر کو اس کی احتیاج ہے اور اس ایمان کے مطابق دل کی کیفیت ہو نفاق نہ ہو کہ دل میں سو بُت ہوں اور زبان پر ایک خدا کا نام ہو یہ ایمان نہیں ہے یعنی ایمان کا لفظ عربی زبان میں جو معنی رکھتا ہے وہ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ زبان پر بھی خالص، سچا ایمان اور دل میں بھی خالص، سچا ایمان ، وہ کیفیت دل کی ہو اور انسان کو خدا تعالیٰ نے جو بے شمار قو تیں اور طاقتیں دی ہیں اپنی زندگی میں ہزار ہا کام کرنے کی۔اس کے سارے کام اس بات کی گواہی دے رہے ہوں کہ اس نے زبان سے جو کہا تھا وہ سچ تھا اور اس کے دل کی جو کیفیت تھی وہ ٹھیک تھی ، حق تھی۔تو تین شرائط یہاں بیان ہوئی ہیں جو ایمان کے معنی میں پائی جاتی ہیں اور پانچ وعدے اس آیت میں بیان ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے خالص، سچے حقیقی مومن سے ایسی جنتوں کا جن کے اندر ہمیشہ اپنی حالت پر رہنے کا سامان ہے جَنَّاتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ - تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ کا ایک معنیٰ یہ ہے ) کہ جس طرح باغات ہیں نا ) اگر باغ کا پانی نہ ہو تو باغ سوکھ جائے گا۔تو ایسی جنتیں جن میں نہریں چلتی ہیں ان جنتوں کے سوکھنے اور اپنی افادیت کھو بیٹھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ نے ان کو ہمیشہ اپنی پوری افادیت کے ساتھ قائم رہنے کا سامان خودان جنتوں کے اندرا اپنی حکمت کا ملہ سے کر دیا ہے۔تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْظر تو ایسی جنتوں کا وعدہ کیا ہے جن جنتوں کے متعلق یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ جنتی یہ کہے کہ آج تو میرے کام آرہی ہے لیکن کل اس کے درخت خشک ہو جا ئیں گے، کل اس کا پانی نمکین ہو جائے گا، کھارا ہو جائے گا میرے کسی کام کا نہیں ہوگا تو خدا تعالیٰ نے کہا ہے تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الانظر اس کے اندر وہ نہریں چلتی ہیں ( الانْهرُ ) جن کی ان جنتوں کو ضرورت