خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 318 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 318

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۱۸ خطبه جمعه ۳ /اگست ۱۹۷۹ء ہمیں مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے اور ہماری غلطیاں اور کمزوریاں اگر کوئی ہوں بھی تو ایسے رنگ کی نہ ہوں کہ کفار کے لئے ٹھوکر اور گمراہی اور تجھ سے دور جانے کا ذریعہ بن جائیں۔ہمیں غیروں کے لئے اچھا نمونہ قائم کرنے کی توفیق عطا کر۔انسان کا اپنا نفس ہے وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ اپنے نفس کے لئے بھی دعا ئیں کرنا ضروری ہے۔ورنہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعماء کو حاصل نہیں کر سکتا۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتُ اقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرة : ۲۵۱) اے ہمارے رب ہم پر قوتِ برداشت نازل کرصبر عطا کر اور ہمیں ثبات قدم عطا کر اور منکر مخالف کے خلاف ہماری مدد کر۔صبر کے معنی عربی زبان اور قرآنی محاورہ میں بڑے وسیع ہیں۔صبر کے معنی ہیں عقلی قوانین اور شریعت کے احکام کی روشنی میں اپنے نفس کو قابو میں رکھنا یہ ہے صبر اور مختلف شکلوں میں یہ ہماری زندگی میں ابھرتا ہے۔مثلاً اگر کوئی مصیبت نازل ہو جائے تو اس پر بھی صبر کرتا ہے انسان میدانِ جنگ ہو تو مومنانہ شجاعت کے مظاہرے کو عربی زبان اور قرآنی اصطلاح صبر کہتی ہے۔میدانِ جنگ میں اور ثبات قدم۔اگر قضا و قدر کے امتحان و ابتلا میں مبتلا ہو کوئی شخص جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تمہیں آزماؤں گا۔تو ایسے امتحان کے وقت بشاشت قلب سے اس ابتلاء کو برداشت کرنا یہ بھی صبر ہے اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنا یہ بھی صبر ہے۔بے موقع اور بے محل بات سے رُکے رہنا۔زبان کو قابو میں رکھنا اس کو بھی صبر کہتے ہیں۔یعنی ہر پہلو سے جہاں نفس کو قابو میں رکھنا ہو عقل کے قانون کے ماتحت یا شریعت کے احکام کے نتیجہ میں۔عربی زبان اور قرآن کریم کی اصطلاح اسے صبر کہتی ہے۔تو رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبُرا میں یہ دعا ہوئی کہ اے خدا! ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے نفس کو اس طرح قابو میں رکھیں کہ کبھی بھی وہ بے قابو ہو کر تیری ناراضگی مول لینے والا نہ بن جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا کرے۔اور ہمیں اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق عطا کرے کہ ماہ رمضان جو دعاؤں کا مہینہ ہے۔ہم اس میں زیادہ سے زیادہ وسیع سے وسیع دعائیں کرنے والے ہوں اور خدا تعالیٰ کے منشا کو پورا