خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 17
خطبات ناصر جلد هشتم 979 ۱۷ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء فَاجْتَنِبُوهُ پر ہے یہ مضمون اس تسلسل میں چلتا ہے اور مخاطب مومن ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور تم اللہ کی بھی اطاعت کرو اے مومنو! اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور ہوشیار رہو اور جن چیزوں سے روکا جاتا ہے ان سے رکو اور اگر اس تنبیہ کے بعد بھی تم پھر گئے تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو کھول کھول کر پہنچا دینا ہی ہے۔یہاں مخاطب چونکہ مومن ہیں۔تولیہ کے دو معنے ہیں ایک عملاً پھر گئے یعنی ایمان اور صداقت کی راہوں کو اختیار کرنے کی بجائے نفاق فسق اور بدعملی کی راہوں کو تم نے اختیار کیا، یہ بھی ہوتی ہے کیونکہ جو حکم ہیں ان کے خلاف کیا اور یہاں تولیہ کے معنے ارتداد کے بھی ہیں کہ ا اگر تم پھر جاؤ یعنی اعلان کر دو کہ یہ پابندیاں ہم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ، ہم اسلام کو چھوڑتے ہیں۔جس طرح زکوۃ کی فرض ادا ئیگی کی وجہ سے اور ترک زکوۃ کی خاطر ارتداد اختیار کیا تھا۔عرب کے ایک حصے نے (بعد میں بہت سوں نے تو بہ کر لی ) جس طرح آج کل ایک شخص یورپ میں مسلمان ہوا اور ازدواجی رشتہ کے سلسلہ میں غیر اسلامی کام کر لیا اس نے۔جب اس کو کہا گیا کہ اسلام تو یہ نہیں کہتا تو کہنے لگا کہ اس قسم کی پابندیاں تو میرا دماغ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اتنا سخت ہے یہ مذہب اس لئے میں اسلام کو چھوڑتا ہوں۔تو فان تولیتُم میں دونوں ہیں، نفاق یا فسق کی راہوں کو اختیار کر کے منہ پھیر نے والے یا علی الاعلان خود کہنے والے کہ ہم اسلام کو چھوڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم پھر گئے تو یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہمارے رسول پر کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ تمہیں زبر دستی دائرہ اسلام میں رکھے یا ز بر دستی تم سے نیک اعمال کروائے۔ہمارے رسول پر ایسی کوئی ذمہ داری نہیں۔انهَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَاغُ الْمُبِينُ ہمارے رسول پہ یہ و دو ذمہ داری ہے کہ کھول کھول کے دین کی باتیں تمہارے کانوں میں ڈالے اور اپنی ذمہ داری کو وہ پورا کر رہا ہے۔اس آیت کی تفسیر میں امام رازی کہتے ہیں۔وَ هُذَا تَهْدِيدٌ عَظِيمٌ وَوَعِيدٌ شَدِيدٌ فِي حَقِّ مَنْ خَالَفَ فِي هَذَا التَّكْلِيفِ وَأَعْرَضَ فِيْهِ عَنْ حُكْمِ اللهِ وَ بَيَانِهِ يَعْنِي أَنَّكُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَالْحُجَّةُ قَدْ قَامَتْ