خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 305 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 305

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۰۵ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء اور دیر تک کھاتے رہتے ہیں اور حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔یہ تو صحیح ہے کہ ایک مؤذن مدینہ میں کوئی آدھ منٹ یا ایک منٹ پہلے صبح کی اذان دے دیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ زیادہ محتاط ہیں وہ جو آخری ایک منٹ ہے وہ تو تمہارا ہے کھانے کا۔اس میں بے شک کھالیا کرو۔لیکن اصل یہ ہے کہ سفید دھاری روشنی کی ، کالی دھاری سے الگ نظر آنے لگ جائے۔اس کے بعد کچھ نہیں کھانا۔یہ حد ہے اس کے قریب بھی مت جاؤ اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ جو اس تفصیل کے ساتھ اپنے احکام بیان کرتا ہے۔اس طرح لوگوں کے لئے احکام بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ ہلاکتوں سے بچ جائیں تو یہ باتیں تفصیل سے تمہیں بتادیں۔روزہ کی مصلحتیں بتا دیں۔روزے کے آداب بتا دیئے۔روزہ کے آداب میں سے سب سے بڑا ادب قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت۔کثرت سے دعائیں کرنا ہے اور بیچ میں سے ایک آیت میں چھوڑ گیا تھا کیونکہ میں اس کے اوپر ذرا لمبا کہنا چاہتا تھا میرا خیال تھا کہ اگر وقت ہوا تو بتا دوں گا۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِیب اس کا روزوں کے ساتھ اور ماہِ رمضان کے ساتھ اور کثرت عبادت کے ساتھ اور کثرت قرآت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور اس کے متعلق ( انشاء اللہ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور صحت دی اور زندگی دی تو اگلے خطبہ جمعہ میں میں کچھ کہوں گا۔اس وقت میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔روز نامه الفضل ربوه ۱۳ اگست ۱۹۷۹ء صفحه ۲ تا ۶ ) 谢谢谢