خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 300
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۰۰ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء مسکین چوبیس گھنٹے کا کھانا جو ہے وہ فدیہ کے طور پر دیں۔یعنی وہ لوگ جن کی طاقت کمزور ہوگئی ہے، ان کا روزہ نہ رکھنا کیونکہ ایک اجتہادی امر ہوگا۔یہ فیصلہ تو ہر شخص نے خود کرنا ہے کہ میں اتنا کمزور ہو چکا ہوں۔بیماریوں کی کثرت کے نتیجہ میں یا عمر کی زیادتی کے نتیجہ میں یا ڈاکٹروں کے مشورہ کے نتیجہ میں کہ اب مجھ میں روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی۔زیادہ لمبا فاقہ نہیں میں کر سکتا۔تو یہ اجتہاد ہوگا اور جب اجتہاد ہو گا تو اجتہادی غلطی کا بھی امکان ہوگا۔جب اجتہادی غلطی کا امکان ہوگا تو اس نامعلوم یا غیر محسوس گناہ پر مغفرت کی چادر ڈالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انتظام کیا ہے کہ طَعَامُ مِسکین بطور فدیہ کے دے دیا کرو کہ اگر تو اجتہادی امر ہے اس میں غلطی نہیں مزید ثواب تمہیں مل جائے گا اور اگر اجتہادی امر جو ہے اس میں غلطی ہے کچھ تو خدا تعالیٰ اس طرح تمہاری مغفرت کر دے گا۔ایک اور ذریعہ سے تم اس کے فضل کو حاصل کرنے والے ہو گے۔اور چھٹے یہ کہ اگر سفر پر ہو تو روزہ نہ رکھو۔ساتویں یہ کہ اصل چیز یہ ہے کہ نیت یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی پوری اور سچی اور حقیقی فرمانبرداری کرنی ہے۔آٹھویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ روزوں کا حکم تمہاری بہتری کے لئے ہے اب جو درس دینے والے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ بہتری کی کتنی قسمیں ان کو نظر آئیں۔بے شمار قسمیں ہیں بہتری کی۔نویں بات ہمیں یہ بتائی گئی کہ ماہ رمضان کا دوہرا تعلق قرآن کریم سے ہے۔اس لئے کہ قرآن کریم میں اس کے احکام ہیں۔ماہ رمضان کی عبادات صوم کی جو عبادات ہیں اس کے احکام جو ہیں وہ قرآن کریم میں نازل ہوئے اور دوسرے یہ کہ قرآن کریم ماہِ رمضان میں نازل ہوا حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا قرآن نازل ہوتا تھا اس کا دور کیا کرتے تھے۔تو ماہِ رمضان کا ایک گہرا تعلق اور دوہرا تعلق قرآن عظیم سے ہے۔پھر دسویں یہ بتایا گیا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے