خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 299 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 299

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۹۹ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء شریعت محمدیہ کا بھی یہ مقصود ہے کہ ایک ایسے شخص کی جو امت محمدیہ کی طرف منسوب ہوتا اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو پکڑا ہے اس کی روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور ہوں۔یہ جو کہا گیا کہ روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور کرنے کا ذریعہ ہے۔تقویٰ کا ذریعہ ہے اس میں اس طرف توجہ دلائی کہ اس عبادت کے چھلکے پر اگر تم نے اکتفا کیا اور سمجھا کہ یہ کافی ہے اور اس کی روح کو پانا اور اس سے فائدہ اٹھانا ضروری نہیں تو تمہاری روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور نہیں ہوں گی تو سوچو اور غور کرو کہ وہ تمام حکمتیں جو قرآن کریم نے بیان کی اور وہ تمام روحانی اور اخلاقی بیماریاں جن کے متعلق کہا گیا کہ قرآن کریم شفا ہے ان کے لئے۔وہ کونسی ہیں اور روزے کے دنوں میں Consciously اور بیدار مغزی کے ساتھ اس عبادت کو اس رنگ میں ادا کرو کہ روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور ہو جائیں اور تم شریعت محمدیہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہو۔تیسرے یہ کہا گیا ہے کہ مقررہ گنتی پوری کرنا فرض ہے۔یہ مضمون پہلی شریعتوں اور شریعت محمدیہ دونوں کے ساتھ Parallel چل رہا ہے۔ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو کہ مقررہ گنتی پوری کرنا ضروری ہے۔جس شریعت میں جس گفتی میں روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ سب شریعتوں میں رمضان کے روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے اس واسطے کہ جہاں پہلوں کا ذکر تھا ان کی گنتیاں کچھ اور تھیں اور تمہاری کچھ اور ہیں۔ان کے روزے کے اوقات کچھ اور تھے تمہارے کچھ اور ہیں۔اس واسطے یہ الفاظ کر دیئے کہ جو تمہیں کہا گیا اس اس کے مطابق گنتی کا پورا کرنا فرض ہے اور جو ان کو کہا گیا اس کے مطابق ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ گنتی کو پورا کریں۔جو دائم المریض ہوں۔یہ دو جگہ آیا ہے دو آیتوں میں۔مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سفر پہلی آیت میں جو مریض کا لفظ ہے اس سے مراد دائم المریض ہے اور اس کی طرف اشارہ کرتا ہے آیت کا یہ اگلاٹکڑا کہ جو روزے کی طاقت کھو بیٹھے ہوں کیونکہ اطاق يُطِيقُ باب افعال جو ہے اس کی ایک خاصیت سلب کی ہے تو جو روزہ رکھنے کی طاقت کھو بیٹھے ہوں یعنی روزہ رکھ ہی نہ سکتے ہوں وہ روزہ نہ رکھیں اور اگر طاقت رکھتے ہوں تو ہر روزہ کے بدلہ میں بطور فدیہ کے طَعَامُ