خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 15

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۵ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء نشان دکھائے ، معجزات ظاہر کرے۔اور معجزہ وہ ہے عقلِ انسانی جس کو Explain نہیں کر سکتی یعنی بتا نہیں سکتی کہ یہ کیسے ہو گیا سوائے اس کے کہ خدا نے ایسا کر دیا۔لیکن تیرا کام یہ نہیں ہے کہ تو شرک سے انہیں بچالے۔اس بات پر مکلف نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔نہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گناہگار نہ بنیں۔تفسیر ( کبیر ) رازی میں ہے کہ آفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا أَى حَافِظًا تَحْفَظُهُ مِن اتَّبَاعِ هَوَانا تجھے ہم نے یہ کم نہیں دیا اور نہ یہ قدرت اور طاقت دی ہے اور نہ تجھے حافظ بنایا ہے کہ تو انہیں محفوظ رکھے نفسانی خواہشات کی اتباع کرنے سے۔آئی لَسْتُ كَذلِكَ کہتے ہیں اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا دوسری جگہ فرما یا کستَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرِ اور جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ کے معنے کئے گئے ہیں لَسْتَ بِمُسَلَّطٍ عَلَيْهِمْ تَجْبُرُهُمْ عَلَى مَا تُرِيدُ یعنی تو نے جو ایک روشنی اور صداقت دیکھی سو دیکھی، جبر کر کے کسی کو منوانے کا کام تیرے سپردنہیں کیا گیا اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرما یا مَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرما یا لا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اکراہ کرنے کی تجھے اجازت نہیں۔جبر کر کے ، مجبور کر کے ان کو اس طرف لانے کی تجھے اجازت نہیں۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ ہوکیل جو ہے یعنی وکیل نہیں بنایا یا وکیل نہیں ہے، مختلف پیرایوں میں اس لفظ کو اللہ تعالیٰ نے مختلف آیات میں استعمال کیا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا۔سوال پیدا ہوتا تھا ( جس کی طرف میں اشارہ کرتا آیا ہوں) کہ پھر کیا بنا یا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تجھے رسول بنایا، تجھے مبشر بنایا کہ جو ایمان لائیں اور اعمالِ صالحہ بجالائیں اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لیں ان کو بڑے انعام ملیں گے۔آپ لوگ گواہ ہیں کہ کتنے انعام ملتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔اور تجھے نذیر بنایا کہ دیکھو اگر خدا تعالیٰ کو ناراض کرو گے تو اس کے غضب کی آگ میں جلو گے ( ابدی جہنم کا تصور غلط ہے ) اور تجھے رسول بنایا کے معنے ہیں تجھے پہنچانے والا بنایا، تجھے مبلغ بنا یا، تیرا کام یہ ہے کہ تو بلاغ کرے، تو لوگوں تک اس تعلیم کو پہنچا دے جو تیرے خدا نے بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے نازل کی ہے۔اس لئے قرآن کریم میں سے دوسرا لفظ جو میں