خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 293
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۹۳ خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء ایک ایسا موحّد ہے جو خدائے واحد و یگانہ کی معرفت بھی رکھتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جاں نثار اور فدائی بھی ہے۔تو عقیدے کے لحاظ سے اور مذہبی رجحان کے لحاظ سے باپ باپ میں کتنا فرق پڑ گیا۔ان سارے فرقوں کے باوجود قرآن کریم کہتا ہے کہ ان کے ساتھ تم نے شکر کی بنیاد پر محسن سلوک کی بنیاد پر، احسان کی بنیاد پر ، سلوک کرنا ہے۔یہ حکم ہے خدا تعالیٰ کا۔اس (اللہ تعالیٰ ) نے کہا اس حکم پر عمل کرنے کے راستہ میں مشرک باپ کا شرک روک نہیں بنے گا۔ایسے موحد کا عقیدہ بھی اس حکم کی بجا آوری میں روک نہیں بنے گا جو مؤحد ہونے کا دعوی تو کرتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کی وجہ سے جہالت سے جاہلانہ گستاخی سے وہ آپ کے خلاف بدزبانی بھی کرتا ہے ایک ایسا باپ بھی ہو گا مسلمان کا جو اسلام نہیں لا یا ابھی لیکن فطرتاً شریف ہے وہ کہتا ہے۔کسی کو بھی بُرا بھلا نہیں کہنا۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں کہتا لیکن ایمان نہیں لاتا۔اور ایک ایسا بچہ بھی ہے جس کا باپ حضرت ابوبکر جیسا انسان ہے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔تو قرآن کہتا ہے کہ تمہارے باپ مختلف العقیدہ ہوں گے۔سارے انسانوں پرغور کرو، باپ مؤحد مومن ہوں گے، باپ مؤحد گستاخ ہوں گے، باپ مؤحد شریف ہوں گے، باپ مشرک ہوں گے، باپ دھر یہ ہوں گے۔ایسا باپ بھی ہوگا ایک شخص کا جو کہتا ہو میں زمین سے خدا کا نام اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹا دوں گا اسلام کہتا ہے تمہارا باپ اگر ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ میں زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹا دوں گا تب بھی میرا تمہیں یہ حکم ہے کہ جو اس کے حقوق میں نے قائم کئے ہیں وہ تم نے ادا کرنے ہیں ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا۔یہ ہے اسلامی تعلیم جس نے ہر انسان کو ایک مقام پر لا کے کھڑا کر دیا ہے۔ہر ایسے انسان کو جو اپنے بچوں کے رشتے کے لحاظ سے باپ ہوں گے۔کسی کا کوئی عقیدہ، کسی کا کوئی عقیدہ، کسی کا کوئی عقیدہ۔جو خدا کو نہیں مانتاد ہر یہ ہے، جو خدا کے ساتھ بتوں کی پرستش کرتا ہے، جو خدا کو واحد مانتا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی نالائقی کی وجہ سے بدبختی کی وجہ سے گستاخی کرنے والا ہے۔جو خدا کو مانتا ہے لیکن اسلام کو نہیں مانتا لیکن بد زبان نہیں