خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 286

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۸۶ خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء یہ تین آیات آج کے اس مضمون کے لئے میں نے منتخب کی ہیں۔سورہ بنی اسرائیل کی جو آیات ہیں ان میں مندرجہ ذیل احکام پائے جاتے ہیں۔ایک۔اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی اور اس کا بڑا گہرا تعلق ہے اس تعلیم کے ساتھ جو اسلام نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے لئے دی۔دوسرے یہ کہ ماں باپ سے احسان کروا چھا سلوک کرو۔تیسرے یہ کہ ان کی کسی بات پر خواہ تمہیں وہ نا پسند ہواُف تک نہ کہو۔چوتھے یہ کہ ان کو جھڑ کو مت۔کسی بات پر بھی تلخ کلامی سے کام نہ لو۔پانچویں یہ کہ ان سے ہمیشہ نرمی سے بات کرو۔چھٹے یہ کہ ان کے سامنے عاجزانہ رویہ اختیار کرو۔ساتویں یہ کہ یہ عاجزانہ رویہ رحمت کے جذبہ سے تمہارے دلوں میں پیدا ہو یہ عاجزانہ رو یہ جو تم اختیار کرو اس کی بنیا د رحمت کا جذبہ ہو۔جس کا اظہار اس طرح کرو کہ ان کے لئے دعا کرتے رہا کرو (یہ آٹھواں ہے ) کہ اے میرے رب ان سے رحمت کا سلوک کر۔رحمت اسلامی اصطلاح میں آگے دو شکلیں اختیار کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کے متعلق جو آتا ہے کہ وہ رحم کرتا ہے انسانوں پر اور دوسری چیزوں پر، ان میں سے ایک کا تعلق صرف انسان سے ہے، اس ایک رحمن کی صفت میں رحمت کا اظہار ہوتا ہے خدا تعالیٰ کا اور ایک رحیم کی صفت میں۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا اظہار ہوتا ہے۔رحمن کی صفت میں جب اظہار ہو تو اس کے یہ معنی ہیں عربی لغت اور قرآنی اصطلاح میں کہ کوئی حق قائم نہیں کیا اس شخص نے جس سے رحمت کا سلوک ہو رہا ہے کہ بدلہ اس کا دینا ہو۔انسانوں کے ساتھ اگر تعلق ہے یا یہ کہ اس کی جزا دینی ہو، نیک کام اگر کسی نے کیا اور اس کا جو بدلہ قرآن کریم کہتا ہے۔میں اپنے فضل سے دوں گا وہ صفت رحمانیت کے نتیجہ میں نہیں۔رحمانیت ہے بغیر عمل عامل یعنی کسی نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے کیا گیا ہو اور خدا تعالیٰ نے اس عمل کو مقبول کر لیا ہو اور اس کو مقبول بنا کر پھر اس کی جزا دی ہو تو یہ بات رحمانیت کے معنی میں نہیں۔رحمانیت میں وہ تمام نعمتیں