خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 14
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۴ خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۷۹ء مضبوطی سے قائم نہ ہوتے تو ہمیں یہ شخص گمراہ کر دیتا یعنی مسلمان بنا لیتا لیکن جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو پھر ان پر حقیقت کھل جائے گی کہ یہ صداقت پر قائم تھے یا ضلالت پر قائم تھے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَرعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَولهُ أَفَاَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا اے رسول! کیا تو نے اس شخص کا حال بھی معلوم کر لیا جس نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود بنالیا جیسا کہ آج کل یہ فیشن بنا ہوا ہے ساری دنیا کا (یورپ ہے، امریکہ ہے،سوشلسٹ، کمیونسٹ ممالک ہیں ) کہ وہ خواہشات نفس کو اپنا معبود بنائے بیٹھے ہیں۔بعض ملکوں نے تو یہ اعلان کر دیا کہ ہمارے عوام ہمارا خدا ہیں تو یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود بنالیا ہے۔پھر فرماتا ہے آفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَکیلا کیا تو اس شخص پر نگران ہے کہ تو اسے جبراً گمراہی سے رو کے؟ اس آیت کے متعلق بھی میں نے پرانی تفاسیر دیکھیں۔مضمون لمبا ہے مگر میں چاہتا ہوں آج اسے ختم کر دوں اس لئے صرف ایک دو آیتوں کے متعلق میں نے پرانی تفسیروں کے بھی حوالے لئے تا کہ آپ پر یہ بات واضح ہو جائے۔ابن جریر کہتے ہیں يَقُولُ تَعَالَى ذِكْرُهُ ( الله ) جَلَّ شَانُه فرماتے ہیں اَفَأَنْتَ تَكُونُ يَا مُحَمَّدُ عَلى هَذَا حَفِيظًا فِي أَفْعَالِهِ کہ اے محمد ! کیا ہم نے تجھے نگران مقرر کیا ہے ایسے شخص کا جو نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنالیتا ہے؟ تو یہ استفہام ایسا ہے جو عربی محاورہ کے مطابق انکار کے معنی دیتا ہے یعنی تجھے نہیں بنا یا وکیل۔یہ ابن جریر نے کہا ہے۔تفسیر روح البیان میں ہے کہ آفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَلِيْلًا کے معنے ہیں کہ أَفَأَنْتَ تَكُونُ حَفِيظا کہ کیا تجھے ہم نے حفیظ بنایا ہے؟ یعنی نگران اور محافظ نہیں بنایا کہ تَمْنَعُةُ عَنِ الشِّرْكِ وَالْمَعَاصِی تو لوگوں کو شرک سے منع کرے اور گناہوں سے انہیں بچائے۔پھر لکھا ہے۔آئی لَسْتَ مُؤَكَّلًا عَلى حِفظہ ان کو شرک اور معاصی سے بچانے اور محفوظ کرنے کا کام خدا نے تیرے سپردنہیں کیا۔ان کو آزادی دی ہے۔بَلْ اَنْتَ مُنْذِر بلکہ تیرا کام صرف انذار کرنا ہے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے۔تیرا کام ہے ان سے کہے کہ وحدانیت، کائنات کی بنیاد ہے اور دلائل دے