خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 278

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۷۸ خطبہ جمعہ ۱۳ / جولائی ۱۹۷۹ء سے جونیئر ، نبی تھے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت مسیح علیہ السلام وہ یا ان کے ماننے والے وہ تم پر اپنی برتری کا کوئی دعوی نہیں کر سکتے۔وہ جولاٹ پادری صاحب تھے وہ یہ سن کر اس طرح اُچھلے جس طرح ان کو کسی نے سوئی چھودی کہ یہ کیا کہہ گئے ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ عظیم اعلان ہے یہ كَافَةً لِلناس اور میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔اس تعلیم نے اس کی ابتداء یہاں سے کی کہ تم سارے ہی سارے اس نوع کے جو اشرف المخلوقات کے افراد ہو۔اور مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں تم عزت پانے کے حق دار ہو۔اگر خود اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بے عزت نہ کرو تو ٹھیک ہے۔اگر کوئی خود اس عزت کے سامان کی طرف جو قرآن کریم ان کے لئے لے کر آیا ان کی طرف توجہ نہ کرے اور صاحب شرف وعزت بننے کی بجائے ایسے اخلاق پیدا کرے جو اچھے نہیں اور جو خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہیں تو اس میں خالق کا تو کوئی قصور نہیں۔مخلوق نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی بے عزتی اور اپنی حقارت کے سامان پیدا کئے۔جہاں تک محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلق ہے اور جہاں تک اسلامی تعلیم کا تعلق ہے جہاں تک ایک مسلمان کے اخلاق کا تعلق ہے کسی انسان، انسان میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔اور محض یہ نہیں بلکہ بہت بلند مقام پر نوع انسان کو کھڑا کر کے کہا ہے کہ یہ ہے تمہارا مقام۔عزت اور شرف کا مقام اور تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔موحد اور مشرک میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔جہاں تک ان کی بہبود کا ، جہاں تک ان کی عزت اور شرف کا، جہاں تک ان کے جذبات کا سوال ہے، کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ساری اسلامی تعلیم اس بنیاد پر کھڑی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کی طرف مبعوث ہوئے اور سارے بنی نوع انسان کو ان کا مقام بتایا اور وہاں لا کھڑا کیا اور کہا کہ یہ ہے تمہارا مقام اشرف المخلوقات ہونے کے لحاظ سے، بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔اپنی اپنی استعداد کے مطابق تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرو اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت کے سامان پیدا کرو۔