خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 13

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۳ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء نازل ہوں گے تو تم خود جان لو گے کہ کس کو رسوا کر دینے والا اور دائمی عذاب ملتا ہے۔اس آیت سے پہلے یہ مضمون ہے۔اس کے بعد کہا إِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ہم نے تجھ پر یہ کتاب یقیناً لوگوں کے فائدہ کے لئے حق اور حکمت کے ساتھ اتاری ہے۔سوجس نے ہدایت پالی صحیح اور حقیقی معنے میں، اس کا نفع اسی کی جان کو حاصل ہوگا اور جو گمراہ ہو گیا اس کی گمراہی اسی پر پڑے گی اور تو ان پر کارساز کے طور پر، وکیل کے طور پر مقرر نہیں کیا گیا۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہ مقام نہیں ، آپ بھی وکیل ،نگران اور محافظ نہیں۔تو اور کوئی آپ کے متبعین میں سے اگر ایسا دعوی کرے کہ میں وکیل ہوں اور مجھے خدا نے جبراً اسلام منوانے ، اس پر قائم رکھنے کا اختیار دیا ہے تو اس قسم کا دعویٰ بڑا ہی جاہلا نہ دعوی ہوگا۔پھر سورہ شوری میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ * وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمُ بوکیل (الشوری: ۷) اس آیت کے بعد جو مضمون ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر قرآن نازل کیا تا کہ تو لوگوں کو ڈرائے اور ہوشیار کرے، اور ہر ایک جان لے گا کہ اس پر ایک قیامت آنے والی ہے اور قیامت کے دن جب خدا تعالیٰ اپنی عظمت اور جلال کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا تو ہر ایک جان لے گا کہ وہ اس گروہ میں شامل ہے جس پر جنت کے دروازے کھولے گئے ہیں یا وہ اس گروہ میں شامل ہے جس کو دوزخ کی طرف دھکیل کے لے جایا گیا ہے۔یہ مفہوم ہے اس آیت کا جو اس کے بعد آتی ہے۔جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی کو اپنا پناہ دینے والا بناتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف پڑنے والے سب اعمال کو محفوظ کر چھوڑا ہے اور تو ان پر وکیل نہیں ہے۔یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے کہ وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرے اور اگر چاہے تو ان کو پکڑے اور ان پر گرفت کرے۔پھر سورۂ فرقان میں ہے اَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوبِهُ أَفَاَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (الفرقان : ۴۴) اس سے پہلے جو مضمون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جو منکر ہیں اس عظیم صداقت کے وہ تجھے صرف ایک ہنسی اور ٹھٹھے کی چیز سمجھتے ہیں۔کہتے ہیں اس شخص کو اوروں کو چھوڑ کے اللہ نے رسول بنایا؟ اور کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے عقائد پر بڑی مضبوطی سے قائم ہیں، اگر ہم اپنے عقائد پر