خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 272
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۷۲ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء نے مجھے اس کے چہرے سے سبق دیا تھا اور میری توجہ اس طرف پھیر دی۔تو یہ جو ذہین بچہ کمزور ہے جو Under Nourished ہے۔جس کو کھانے کو نہیں ملتا ، جس کو مناسب غذا انہیں ملتی وہ علم کے میدان میں ترقی کیسے کرے گا؟ جس قوم کے ذہین بچے غیر مناسب، غیر متوازن غذا کھا کے علم کے میدانوں میں ترقی نہیں کر رہے ہوں گے وہ ملک دنیا کے ممالک کے مقابلے میں کیسے ترقی کریں گے، ہو ہی نہیں سکتی یہ بات۔خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت سے انسان نہیں لڑسکتا۔جو لڑتا ہے وہ نا کام ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کا قانون ہے تم ان کا خیال رکھو۔ان کے۔یہ تو میں نے ایک مثال دی۔اس میں دیر ہوگئی ہے ورنہ اس کے اخلاقی مطالبے ہیں۔اخلاقیات کی نشوونما کے لئے اس کی۔اس کے روحانی مطالبے ہیں۔ہر انسان اپنے بھائی سے پیار اور محبت کے ساتھ کچھ مطالبہ کرتا ہے۔ہر بھائی اپنے بھائی کے مطالبات کو پورا کرتا ہے پیار اور محبت کے ساتھ۔یہ ہے اسلامی تعلیم۔دعا کریں اور کوشش کریں اور ہر وقت چوکس رہ کے کوشش کریں کہ اسلام کی تعلیم پر آپ عمل کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔نہ صرف احمدی بلکہ دنیا کا کوئی انسان بھی بھوکا نہ رہے۔انسان، انسان سے چالاکیاں بھی کرتا ہے۔خدا کرے کہ ہم چالا کی کرنے والے نہ ہوں۔ایک دفعہ مجھے کسی شخص نے ایک اشتہار بھیج دیا ایک امریکہ کی فرم سویا بین سے جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اس میں چوبیس فیصد بہت اعلی قسم کی غذائیت رکھنے والا تیل بھی پایا جاتا ہے۔اس میں لکھا ہوا تھا کہ ہم تیل نکال لیتے ہیں اور جو کھلی رہ جاتی ہے نا جس طرح بنولے کی کھلی آپ جانور کو ڈال دیتے ہیں وہ کھلی کے انہوں نے پیس کے ڈبے بنائے ہوئے ہیں اور افریقہ کے غریب ممالک اور فلاں جگہ کے غریب ممالک میں بڑا احسان کر کے تقسیم کر رہے ہیں۔تو میں بھی چونکہ سویا بین میں تجربہ کرنے والا تھا۔میں نے ان کو خط لکھا بڑے آرام سے۔میں نے کہا میرا تجربہ یہ ہے کہ Whole سویا جو ہے یعنی اس میں سے اگر تیل نہ نکالا جائے تو یہ بہت زیادہ مفید ہے بنسبت اس کے کہ تیل نکال کے کھلی لوگوں کو کھلائی جائے۔یہ آپ کیوں کرتے ہیں ایسا؟