خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 263
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۶۳ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء آٹا یا میدہ یا سوجی یا چنا یا کی پیدا نہیں کی یا صرف گوشت نہیں پیدا کیا یا صرف شلجم کی ترکاری نہیں پیدا کی یا صرف اخروٹ اور بادام یہاں کشمیر قریب ہی ہے وہاں بڑا رواج ہے اخروٹ بہت کھاتے ہیں وہاں کے لوگ وہ نہیں پیدا کئے بلکہ یہ اب انہوں نے بڑی ریسرچ کی ہے اسلام کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق اس کو پروٹینز کہتے ہیں یہ گوشت یا Nuts یا پنیر یا دودھ تو ان کا بھی کہتے ہیں آپس میں توازن پیدا کرو اور یہ پہلوان مثلاً گھی کا بڑا کھا جاتے ہیں۔بادام بڑا کھا جاتے ہیں۔وہ اس کو ہضم کر رہے ہوتے ہیں اور ان کو طاقت چاہیے اپنے کام کے لئے۔ایک کلرک جو بیٹھا ہوا ہے وہ آدھ سیر آٹا کھائے تو اس کو اسہال شروع ہوجائیں گے۔ایک زمیندار جو ساری رات کام کرتا رہا ہے اپنی زمینوں کے اوپر وہ صبح جس وقت کھانے پہ بیٹھتا ہے جس کو ہم ناشتہ کہتے ہیں اس کا پہلا کھانا ہوتا ہے اس وقت وہ سیر پکی روٹیاں کھا جائے گا اور وہ ہضم کرے گا اس کو تو یہ ہے مناسب حال اور متوازن کا مطلب یہ ہے کہ جو مختلف خدا تعالیٰ نے غذا ئیں بنائی ہیں اپنی قسم کے لحاظ سے مختلف جس کو انہوں نے Fat یعنی چکنائی، جس کو انہوں نے (Carbohydrate) نشاستہ یا میدہ۔یہ کہا۔یا جس کو انہوں نے پروٹین کہا آگے ان کی بھی بہت ساری قسمیں ہیں۔پروٹین کے متعلق تھوڑا سا اب میں نے بتایا۔یا جس کو انہوں نے Vitamins کہا یہ بھی غذا کا حصہ ہے۔یا جس کو انہوں نے Minerals کہا یعنی جو معدنیات ہیں۔وہ ان کو Trace element بھی بعض ہیں ان میں سے بہت تھوڑا چاہیے لیکن انسانی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔خدا کہتا ہے کہ ہر شخص کو دو۔تو میں نے یہ کہا کہ میرے نزدیک وَفي اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ کا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم نے بڑا عظیم اعلان کیا ہے۔بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے کہا میں تمہیں لاوارث نہیں چھوڑوں گا۔قرآن کریم نے کہا تمہارے جو سیاسی بڑے ہیں وہ تمہارا خیال نہ رکھیں یا رکھیں۔تمہارے دوسرے، تمہارے اپنے بزرگ جو ہیں خاندانی یا قبیلے کے وہ اس طرف توجہ دیں نہ دیں، پر میں تمہارا پیدا کرنے والا رب تمہیں ایک مقصد کے لئے میں نے پیدا کیا۔تمہیں ایک مقصد کے لئے پیدا کیا میں نے۔جو بھی تمہیں ملا وہ مجھ سے ملا اور بنیادی طور پر میں نے تمہیں