خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 256

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۵۶ خطبہ جمعہ ۶ / جولائی ۱۹۷۹ء کے نتیجہ میں تم روحانی نعمتوں سے محروم ہونے کی کوشش کرو گے۔وَ بِنِعْمَتِ اللهِ هُمْ يَكْفُرُونَ اصل نعمت خدا تعالیٰ کی۔ایک شخص ہے اس کو اتنا مال ملا کہ اس پر دس ہزار روپیہ ز کوۃ واجب ہوگئی خدا کے لئے۔وہ دس ہزار روپیہ خدا کے حکم سے دے دیتا ہے تو جو مادی دولت اس کو ملی جس پر زکوۃ واجب ہوئی مادی دولت ہے۔روپیہ ہے۔سونا ہے۔چاندی ہے۔بھیڑ بکری ہے۔اونٹ ہیں۔گائے اور بھینس ہے وغیرہ وغیرہ تو وہ زکوۃ دے گا تو یہی چیز جو مادی ہے اس نے خدا تعالیٰ کا حکم ماننے کے نتیجہ میں ایک روحانی نعمت کا دروازہ کھولا نا! خدا تعالیٰ نے کہا میرے بندے نے میرے حکم کے مطابق میری راہ میں اپنے مال کو میرے بتائے ہوئے نصاب کے مطابق خرچ کر دیا۔مگر خدا تعالیٰ نے محض یہ نصاب نہیں مقرر کیا بلکہ نوع انسانی کا جہاں تک تعلق ہے اس نصاب کا میں آگے آکے ابھی ذکر کروں گا۔رَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَتِ یہاں جو الطَّيِّبَتِ“ کا لفظ استعمال کیا گیا اس سے میری توجہ اس طرف پھری کہ خدا تعالیٰ کی ہر نعمت جو ہے، وہ پاک ہے۔اس معنی میں کہ وہ پاکیزگی کی طرف لے جانے والی ہے۔پاکیزگی کی طرف لے جانے والی ہے صحیح استعمال کے نتیجہ میں ، اعمالِ صالحہ کے نتیجہ میں۔تو یہاں رزقکم میں ہر قسم کی عطا اور بخشش آگئی اور مِنَ الطیبت میں اس طرف اشارہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی ہر قسم کی عطا اور بخشش کے نتیجہ میں تم خدا تعالیٰ سے اس کے پیار کو حاصل کر سکتے ہو اگر اس کا صحیح استعمال کرو۔لیکن پھر آگے کافروں کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ جو ہلاک ہونے والی چیز ہے اس پر تو وہ ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے دی کہ ہم ہی اس سے فائدہ اٹھا ئیں اور کوئی اور اس کا شریک نہ ہو۔ہم ہی اس کا استعمال کریں صحیح یا غلط جس طرح چاہیں۔جس طرح قرآن کریم میں ایک نبی کے متعلق آیا ہے کہ ان کی اُمت نے کہا ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ جو ہمیں خدا نے چیزیں دی ہیں ہم اپنی مرضی کے مطابق ان کو خرچ نہ کریں۔تو طیبات سے اس طرف ہمیں توجہ دلائی گئی کہ خدا تعالیٰ کی ہر نعمت اگر اس کا صحیح استعمال ہو ابدی رحمتوں کے دروازے کھولنے والی ہے اور جو اس کا غلط استعمال ہے اس کے اوپر قرآن کریم