خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 11 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 11

خطبات ناصر جلد هشتم نہیں ہے کہ یہ ہدایت حاصل کریں۔11 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ (البقرة : ۲۷۳) یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے، یہ رسول کا کام نہیں ہے۔تیرا کام صرف پہنچانا ہے اور پھر لکھتے ہیں کہ وقِیلَ الْوَكِيلُ الْحَفِيْظُ الْمَجَازِئُ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکیل کے معنے ایسے حفیظ کے ہیں جس کے سپر د خدا تعالیٰ نے اس کے بندوں کو ان کے گناہوں کے نتیجہ میں سزا دینے کا اختیار دیا ہو۔یہ جو پہلی آیت میں نے لی جس میں لَسْتُ عَلَيْكُمْ بوکیل ہے اس کے متعلق میں نے کھول کر یہ ساری باتیں آپ کو بتادی ہیں کہ وکیل کے یہاں کیا معنی ہیں۔مراد یہ ہے کہ اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) میں نے وکیل نہیں بنایا یعنی خدائی کے وہ اختیار جن اختیارات کو استعمال کر کے میں نیکیاں کرنے والوں کو ان کا بدلہ اور بدی کرنے والوں کو ان کی سزا دیتا ہوں، یہ تیرے سپر دنہیں کیا۔تیرا کام ہے پہنچانا۔جو میں کہتا ہوں ، جو میں نے تعلیم دی ، جو میں نے ایک حسین لائحہ عمل نوع انسانی کے ہاتھ میں دیا، جو ایک کامل شریعت قرآن کریم میں آگئی اور انسان کے ہاتھ میں تیرے ذریعہ سے پہنچائی گئی۔اس کا پہنچانا تیرا کام ہے۔قرآن کریم نے سورہ انعام میں ہی ایک دوسری جگہ یہ فرما یا : - وَ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا اَشْرَكُوا وَمَا جَعَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيفًا ۚ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِم بوكيل (الانعام : ۱۰۸) اس آیت سے پہلے جو مضمون بیان ہوا وہ یہ ہے کہ تیرے رب کی طرف سے دلائل آچکے ہیں ، جو ان کو پہچانے گا اور قبول کرے گا، ان کے مطابق عمل کرے گا، اس کا فائدہ اسی کی جان کو ہے اور جو کج راہی کو اختیار کرے گا اور قبول کرنے سے انکار کرے گا اس کو اس کی سزا بھگتنا پڑے گی اور اس سے چند آیات پہلے بھی آیا ہے وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٌ (الانعام :۱۰۵) اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتَّبِعْ مَا أَوْحَى إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ جو تجھ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اس کی اتباع کرو۔اس میں ایک حکم یہ بھی ہے کہ بطور رسول کے، بطور مبلغ کے دنیا کی طرف اپنی رسالت کو یعنی جو تعلیم تجھے دی گئی ہے اسے پہنچانا تیری ذمہ داری ہے۔جو کام خدا تعالیٰ کے ہیں ان کے اندر دخل نہیں دینا۔اِتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ (الانعام : ۱۰۷) جو مشرک ہیں ان سے اعراض کرو۔