خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 10

خطبات ناصر جلد هشتم ا۔خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۷۹ء اکراها اور رسول کو اس کے مرسل رب کی طرف سے یہ قدرت عطا نہیں کی گئی کہ وہ خدا کے بندوں میں خدائی رنگ میں حکومت کرے اور ان پر ایمان لانے پر يَجْبُرَهُمْ عَلَى الْإِيْمَانِ ایمان پر جبر کرتے ، یعنی ایمان لانے پر ، ایمان پر قائم رہنے پر ، ایمان کے مطابق عمل کرنے پر۔تین شکلیں بنتی ہیں ایمان کے لفظ میں۔تو اس پر سختی سے جبر کرنے کی نہ اجازت ہے نہ طاقت دی گئی ہے یا وَيُكْرِهَهُمْ عَلَيْهِ اِكْرَاهَا وہ کراہت محسوس کرتے ہیں ان کے دل نہیں مانتے مگر رسول ان کو کہے نہیں ! تمہیں یہ کرنا پڑے گا۔یہ اس کو نہیں کہا گیا۔پھر آگے انہوں نے اس تفسیر میں قرآن کریم کی بہت سی آیات اپنے بیان کی تائید میں لکھی ہیں۔وہ کہتے ہیں دیکھو خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔لا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ اور ان مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ (۱) اس میں ایک اصول بیان ہوا ہے اور (۲) حکم ہے۔لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ۲۵۷) میں ایک اصول بھی بیان ہوا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہوگا اور ایک حکم بھی ہے یہ۔اور اس کے پہلے مخاطب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور یہاں یہی معنے انہوں نے لئے ہیں کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ دین کے معاملہ میں اکراہ نہیں کرنا جبر نہیں کرنا تم نے۔فذكر إِثْمَا انتَ مُذَكر (الغاشية: ۲۲) ہاں وعظ ونصیحت کرو کیونکہ تم مذکر ہو، جبر کر نے والے نہیں ہو ، وکیل نہیں ہو، محافظ نہیں ہو ، حافظ نہیں ہو۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصيطر (الغاشية: ۲۳) اس کے معنے لغت والے نے یہ کئے ہیں کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَلَّطٍ عَلَيْهِمْ تَجْبُرُهُمْ عَلَى مَا تُرِيدُ تجھے مسلط نہیں کیا گیا لوگوں پر کہ تو اپنی مرضی لوگوں پر مسلط کرے اور یہ کہ جسے تو صداقت سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ قبول کریں اس کو قبول کرنے پر لوگوں کو مجبور کرے۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ و فرماتا ہے :۔نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ ( 3 : ٤٦) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ ( :۴۲) جو شخص تیرے’انذار‘ سے ڈرتا ہے اس کو تم نصیحت کرو جو نہیں ڈرتا اس کی کوئی ذمہ داری نہیں اور جو کفر اور تکذیب کی باتیں وہ کہتے ہیں ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔لَيْسَ عَلَيْكَ هُدبُهُمْ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے تیری یہ ذمہ داری