خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 243
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۴۳ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء عبادتیں اسلام کے اندر نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو لیکن خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی انسان کو بھی دکھ نہیں پہنچنا چاہیے اور ہر ایک کا خیال رکھو۔ان کے دکھوں میں شریک ہو۔اپنے پیسوں سے ان کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرو اور پھر جو حصہ رسدی تمہیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے تم نے کرنا ہے وہ تم پہنو جو تمہیں دیتا ہے وہ۔اس کو استعمال کرو۔کوئی نہیں روکتا۔میں اپنی ایک مثال دے دیتا ہوں چھوٹی سی۔بہت سارے دوست مجھے مثلاً قلم لا دیتے ہیں تحفہ، تو میں سال میں کوئی پندرہ ہیں پچیس قلمیں کسی غیر ملکی کو جلسہ کے اوپر باہر والے آنے والوں کو، ہوشیار احمدی طالب علموں کو ، بڑی قیمتی قلمیں اپنی طرف سے بڑے پیار سے دیتے ہیں۔میں بھی آگے بہت پیار سے دیتا ہوں اسی طرح میں آگے کر دیتا ہوں اور اپنے پاس وہ قلم رکھتا ہوں جو تیز چلنے والی ہو کیونکہ مجھے بڑا تیز کام کرنا پڑتا ہے نا۔اگر میں کہوں آپ کے بہت سارے آپ میں سے سمجھ ہی نہیں سکیں گے میں اس پندرہ منٹ میں ایک ہزار خط کے او پر دستخط کر جاتا ہوں۔اور اگر قلم نہ چلنے والی ہو میرے ہاتھ میں ،ٹو جو چلتا ہی نہیں تو مجھے بخار چڑھ جاتا ہے تو وہ بس میری قلم ہے۔باقی میں دیتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔بڑی قیمتی دوائیں لے آتے ہیں لوگ باہر سے۔میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کس شخص ، کس بیمار کے لئے خدا نے میرے پاس یہ دوائی بھیجی ہے۔پھر وہ بیمار بھی آجاتا ہے کوئی ایک دو دن کے اندر پھر میں اس کو آگے کر دیتا ہوں۔تو یہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بھائی چارہ کے بندھنوں میں باندھ دیا ہے۔ایک خاندان بنادیا اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک طرف ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں۔خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں۔ثبات قدم کے ساتھ اس کی رضا کی طلب میں لگے رہنے والے اور خدا تعالیٰ کی جنتوں کو پانے والے اور دوسری طرف جس کے بغیر خدا تعالیٰ راضی نہیں ہوتا اس کی مخلوق کا خیال رکھنے والے، ان کے دکھوں کو دور کرنے والے، ان کی غلطیوں کو معاف کرنے والے ( بنیں ) یہ جو گالیاں سن کر دعا دو یہ غلطیوں کو معاف کرنا ہی ہے نا۔پاکے دکھ آرام دو۔